یوکرین پر مذاکرات کرنے کے لیے اوباما کا اصرار

،تصویر کا ذریعہ AP
امریکی صدر براک اوباما نے روسی صدر ولادمیری پوتن سے ایک طویل ٹیلی فون کال میں کہا ہے کہ وہ یوکرین کے مسئلے کے لیے سفارتی حل تلاش کریں۔
تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس بات چیت میں روسی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ اور روس کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہییں۔
اس سے پہلے بدھ کو امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے یوکرین کے مسئلے پر روسی ہم منصب سرگے لاوروف سے ملاقات کو ’مشکل‘ قرار دیا تھا تاہم ان کا کہنا ہے کہ بات چیت کا عمل جاری رہے گا۔
روسی فوج نے یوکرین کے روس نواز صدر کی معزولی کے بعد ملک کے علاقے کرائمیا کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
اس تنازعے کی وجہ سے متعدد غیر ملکی مندوبین نے روس میں جاری سوچی سرمائی اولمپکس کے پیرالمپک گیمز کا بائیکاٹ کیا ہے جو جمعے کو شروع ہو رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما نے اپنے روسی ہم منصب پر اس بات پر زور دیا کہ کرئمیا میں روسی مداخلت یوکرین کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے۔
بیان کے مطابق صدر اوباما کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں ایک ایسا حل ممکن ہے جو کہ تمام پارٹیوں کے لیے قابلِ قبول ہو جس میں ماسکو اور کیئف کے درمیان مذاکرات، یوکرین میں بین الاقوامی مبصرین اور روسی فوجیوں کی اپنے اڈّوں پر واپس شامل ہے۔
کریملن کے مطابق صدر پوتن نے کہا کہ امریکہ اور روس کے تعلقات کسی ایک معاملے پر اختلافِ رائے کے باعث خراب نہیں ہونا چاہییں البتہ یہ ایک اہم بین الاقوامی مسئلہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں رہنماؤں نے گذشتہ ایک ہفتے میں یوکرین کے معاملے پر دوسری مرتبہ طویل بات چیت کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
یوکرین کی حکومت کے بعد یورپی یونین اور امریکہ نے بھی یوکرینی جزیرہ نما کرائمیا کی پارلیمان کی جانب سے روس سے باضابطہ الحاق کی قرارداد کی منظوری کی مذمت کی ہے۔
کرائمیا کی پارلیمان میں جمعرات کو ہونے والے فیصلے کے مطابق اس معاملے پر عوامی رائے جاننے کے لیے رواں ماہ کی 16 تاریخ کو رائے شماری کرائی جائے گی۔
کرائمیا کی زیادہ آبادی روسی زبان بولتی ہے اور یوکرین میں روس کے حامی صدر کے معزول ہونے کے بعد سے کرائمیا کا مسئلہ بحران کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
جزیرہ نما کرائمیا میں پہلے ہی روسی اور اس کی حمایتی فورسز کی عمل داری ہے اور گذشتہ کئی دنوں سے یوکرین سے خومختار علاقہ بنا ہوا ہے۔







