یوکرین میں ٹینکوں کا قبرستان

مشرقی یوکرین کے شہر خارکوو میں فوجی سازوسامان کے ’قبرستان‘ میں ٹینکوں کے سینکڑوں ڈھانچے دیکھے جا سکتے ہیں۔

مشرقی یوکرین کے شہر خارکوو میں فوجی سازوسامان کے ’قبرستان‘ میں ٹینکوں کے بےشمار ڈھانچے دیکھے جا سکتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمشرقی یوکرین کے شہر خارکوو میں فوجی سازوسامان کے ’قبرستان‘ میں ٹینکوں کے بےشمار ڈھانچے دیکھے جا سکتے ہیں۔
یہ جگہ ایک زمانے میں ٹینک مرمت کرنے کا کارخانہ تھا لیکن پھر یہاں کام بند ہوگیا اور یہ بھاری بھرکم ٹینکوں کا کوئی دعویدار نہ رہا۔
،تصویر کا کیپشنیہ جگہ ایک زمانے میں ٹینک مرمت کرنے کا کارخانہ تھا لیکن پھر یہاں کام بند ہوگیا اور یہ بھاری بھرکم ٹینکوں کا کوئی دعویدار نہ رہا۔
اپنے ایک دوست سے اس قبرستان کے بارے میں جاننے کے بعد 18 سالہ فوٹوگرافر پاول اٹکن نے اسے ڈھونڈنے میں مہینوں صرف کیے۔
،تصویر کا کیپشناپنے ایک دوست سے اس قبرستان کے بارے میں جاننے کے بعد 18 سالہ فوٹوگرافر پاول اٹکن نے اسے ڈھونڈنے میں مہینوں صرف کیے۔
پاول کا کہنا ہے کہ جب انھیں اس مقام کے بارے میں پتا چلا تو انھیں لگا کہ یہ تصویر کشی کے لیے بہترین مقام ثابت ہوگا اور جب وہ وہاں پہنچے تو اس کی وسعت دیکھ کر حیران رہ گئے۔
،تصویر کا کیپشنپاول کا کہنا ہے کہ جب انھیں اس مقام کے بارے میں پتا چلا تو انھیں لگا کہ یہ تصویر کشی کے لیے بہترین مقام ثابت ہوگا اور جب وہ وہاں پہنچے تو اس کی وسعت دیکھ کر حیران رہ گئے۔
اٹکن کا کہنا تھا کہ ’بس آپ تصور کریں ایک ہی جگہ پر چار سو ٹینک قطار در قطار کھڑے ہوں۔‘
،تصویر کا کیپشناٹکن کا کہنا تھا کہ ’بس آپ تصور کریں ایک ہی جگہ پر چار سو ٹینک قطار در قطار کھڑے ہوں۔‘
پاول کا کہنا ہے کہ عموماً اس جگہ پر چوکیدار موجود ہوتے ہیں لیکن وہ خوش قسمت تھے کہ جب وہ وہاں پہنچے تو وہاں کوئی نہ تھا۔
،تصویر کا کیپشنپاول کا کہنا ہے کہ عموماً اس جگہ پر چوکیدار موجود ہوتے ہیں لیکن وہ خوش قسمت تھے کہ جب وہ وہاں پہنچے تو وہاں کوئی نہ تھا۔
پاول کے مطابق جب وہ اس قبرستان میں داخل ہوئے تو اسے دیکھنے میں انھیں دو گھنٹے کا وقت لگا۔
،تصویر کا کیپشنپاول کے مطابق جب وہ اس قبرستان میں داخل ہوئے تو اسے دیکھنے میں انھیں دو گھنٹے کا وقت لگا۔
اپنے عروج میں اس کارخانے میں ماہانہ 60 سے زیادہ ٹینک مرمت ہوتے تھے لیکن اب یہاں یہ سب ٹینک بےکار پڑے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناپنے عروج میں اس کارخانے میں ماہانہ 60 سے زیادہ ٹینک مرمت ہوتے تھے لیکن اب یہاں یہ سب ٹینک بےکار پڑے ہیں۔