کرائمیا:بحری اڈے پر روس کے حامیوں کا قبضہ

اس کارروائی کے بعد یوکرائن کے حکام کو اس اڈے سے اپنے سازوسامان کے ساتھ نکلتے ہوئے دیکھا گیا اور اڈے پر روسی جھنڈے لہرا رہے تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناس کارروائی کے بعد یوکرائن کے حکام کو اس اڈے سے اپنے سازوسامان کے ساتھ نکلتے ہوئے دیکھا گیا اور اڈے پر روسی جھنڈے لہرا رہے تھے

روس کے حامی کارکنوں نے کرائمیا کے شہر سواسٹوپل میں واقع یوکرین کے بحری اڈے پر قبضہ کر لیا ہے۔

کئی یوکرینی اہل کار اس اڈے کو چھوڑ گئے ہیں اور اس پر اب روسی جھنڈا لہرا رہا ہے اور اطلاعات ہیں کہ یوکرین کی بحریہ کے سربراہ سرہئی ہیدک کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

یہ سب روسی صدر ولادی میر پوتن اور کرائمیا کے رہنماؤں کے جزیرہ نما کرائمیا کو روس کا حصہ بنانے کے مسودۂ قانون پر دستخط کرنے کے ایک دن بعد ہو رہا ہے۔

یوکرین کی بحریہ کے ترجمان سرگئی بگدانیو کا کہنا ہے کہ اہل کاروں نے اڈے کی عمارتوں میں اپنے آپ کو بند کر لیا ہے تاہم انھوں نے کہا کہ ’ہم طاقت کا استعمال نہیں کر رہے اور نہ کرنا چاہتے ہیں۔‘

اس کارروائی کے بعد یوکرین کے حکام کو اس اڈے سے اپنے سازوسامان کے ساتھ نکلتے ہوئے دیکھا گیا اور اڈے پر روسی جھنڈے لہرا رہے تھے۔

اس کے بعد اطلاعات منظر عام پر آئیں کہ سرہئی ہیدک کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور انھیں روسی سکیورٹی فورسز ایف ایس بی کے اہل کار لے گئے ہیں۔

یوکرائن کے حکام نے کہا ہے کہ وہ طاقت کا استعمال نہیں کریں گے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیوکرائن کے حکام نے کہا ہے کہ وہ طاقت کا استعمال نہیں کریں گے

روسی افواج کے ایک نمائندے اگور یسکِن نے کہا کہ ’انھیں روکا گیا اور ان کے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی اور انھیں نکلنے پر مجبور کیا گیا اور پھر انھیں لے جایا گیا۔‘

یوکرین کی وزارتِ دفاع نے اسی نوعیت کے واقعے کی اطلاع دی جو مغربی کرائمیا میں ہوا۔

وزارتِ دفاع کے ترجمان ولادیسلیو سیلیزنیو نے فیس بک پر کہا کہ ایک ٹریکٹر نے عمارت کے دروزاے کو توڑا اور اس میں داخلے کے راستے کو بند کر دیا ہے۔

اتوار کو کرائمیا کے ووٹروں نے ایک متنازعہ ریفرینڈم میں یوکرین سے علیحدگی کا فیصلہ کیا تھا۔

یورپی یونین اور امریکہ نے اس ریفرنڈم کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ یورپی یونین نے روس، کرائمیا اور یوکرین کے سرکاری اہل کاروں اور دیگر افراد پر سفری پابندیاں عائد کی ہیں جبکہ ان کے اثاثے بھی منجمد کیے گئے ہیں۔

ایک یوکرائنی بحری فوج کا اہلکار اپنے سامان کے ساتھ بحریہ کے اڈے سے جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنایک یوکرائنی بحری فوج کا اہلکار اپنے سامان کے ساتھ بحریہ کے اڈے سے جا رہا ہے

برسلز اور وائٹ ہاؤس میں حکام نے کہا ہے کہ ان پابندیوں کے دائرہ کار کو بڑھایا جائے گا جبکہ ماسکو نے دھمکی دی ہے کہ ’یہ ناقابلِ قبول ہے اور نتائج کے بغیر نہیں ہے۔‘

واضح رہے کہ یوکرین کا کرائمیا علاقہ فروری کے اواخر سے روسی حامی فوجیوں کے قبضے میں ہے۔ ماسکو کا موقف ہے کہ یہ روس حامی فوجی ’سیلف ڈیفنس فورس ہیں اور روس کے براہ راست کنٹرول میں نہیں ہیں۔‘

اس بحران کا آغاز گزشتہ سال نومبر میں ہوا جب روس کے حمایت یافتہ صدر وکٹر ینوکووچ نے یورپی یونین کے ساتھ اشتراک کے معاہدے کو مسترد کر کے ماسکو کے ساتھ بہتر تعلقات کو بڑھانا شروع کیا۔

وکٹر ینوکوچ 22 فروری کو شدید مظاہروں کے نتیجے میں ملک سے فرار ہو گئے۔

کرائمیا کو 1954 میں سوویت یونین نے یوکرین کے حوالے اور اس کی آبادی روسی نسل کے لوگ ہیں۔

اطلاعات منظر عام پر آئیں کہ سرہئی ہیدک کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور انہیں روسی سکیورٹی فورسز ایف ایس بی کے اہلکار لے گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناطلاعات منظر عام پر آئیں کہ سرہئی ہیدک کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور انہیں روسی سکیورٹی فورسز ایف ایس بی کے اہلکار لے گئے ہیں

روس کے حامی افواج نے گزشتہ فروری میں اس جزیرہ نما پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کی عمارتوں جن میں پارلیمنٹ بھی شامل ہے کو قبضے میں لے لیا تھا۔

وزیراعظم کو 27 فروری کو ہٹا کر ایک روس کے حامی وزیراعظم سرگئی ایسکونو کو وزیراعظم بنا دیا گیا تھا جن کا تعلق ایک چھوٹی سیاسی جماعت رشین یونیٹی پارٹی سے ہے جنہوں نے بعد میں ریفرنڈم کا اعلان کیا۔

روسی صدر نے روسی پارلیمان کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بڑے جذباتی انداز میں کہا تھا کہ ’لوگوں کے دلوں کی گہرائی میں كرائميا ہمیشہ روس کا حصہ رہا ہے۔‘ اور یہ ’تاریخی ناانصافی‘ کو درست کیے جانے کے مترادف ہے۔