’جی ایٹ کا اب کوئی وجود باقی نہیں رہ گیا‘

جی ایٹ کا احیا اب بہت مشکل ہوگا:: میرکل

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجی ایٹ کا احیا اب بہت مشکل ہوگا:: میرکل

دنیا کے سات بڑے صنعتی ممالک نے روس کی جانب سے کرائمیا کو اپنا حصہ بنائے جانے پر احتجاجاً جون میں وہاں منعقد ہونے والا دنیا کے آٹھ بڑے صنعتی ممالک کی تنظیم جی ایٹ کا اجلاس منسوخ کر دیا ہے۔

ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں ’جی سیون‘ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات کے بعد جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ جی ایٹ کا اب کوئی وجود باقی نہیں رہ گیا ہے۔

برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ یہ اجلاس منعقد نہیں ہوگا۔

آنگیلا میرکل نے کہا جب تک درکار سیاسی ماحول دستیاب نہیں ہوتا ’نہ تو سربراہ اجلاس کی شکل میں اور نہ تنظیم کی حد تک کوئی جی ایٹ نہیں ہے۔‘

اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ اگر مغربی ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ جی ایٹ اپنا اثر کھو چکا ہے تو یہ کوئی المیہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ جی ایٹ اجلاس ایران کے جوہری تنازع اور شام کی خانہ جنگی جیسے عالمی مسائل پر بات چیت کے لیے کارآمد فورم تھا لیکن ’روس اس سے چمٹے نہیں رہنا چاہتا۔‘

امریکی صدر براک اوباما کی سربراہی میں عالمی رہنماؤں کی ملاقات میں یہ بھی طے پایا کہ جون میں روسی شہر سوچی میں جو جی ایٹ اجلاس منعقد ہونا تھا اب اس کی جگہ روس کے علاوہ دیگر تمام ممالک کے رہنما ان اوقات میں برسلز میں ملاقات کریں گے۔

اس موقع پر برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ جی ایٹ کو دوبارہ زندگی ملنا بہت مشکل ہوگا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’یہ جی ایٹ کے لیے یقیناً بڑا نقصان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سال جی ایٹ اجلاس منعقد نہیں ہوگا۔ امریکی صدر نے ملاقات میں واضح کر دیا ہے کہ اس تنظیم کو مستقبل قریب میں دوبارہ بحال کرنا بہت مشکل ہوگا۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر روس نے یوکرین میں کارروائیاں جاری رکھیں تو اس کے خلاف مزید سخت پابندیوں کے نفاذ پر کام جاری رہے گا۔

روس کے وزیرِ خارجہ کو اگرچہ اس جی سیون اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا لیکن وہ برسلز میں اپنے یوکرینی ہم منصب آندرئی ڈیشچتسیا سے ضرور ملے۔

ان کی اس ملاقات کو حیرت کی نظر سے دیکھا گیا ہے کیونکہ مغربی ممالک ایسا کرنے کے لیے روس پر زور دیتے رہے ہیں لیکن وہ اس سے انکار ہی کرتا رہا۔