کرائمیا کو روس میں شامل کرنے کے قانون پر دستخط

،تصویر کا ذریعہc
روس کے صدر ولادی میر پوتن نے امریکہ اور یورپی یونین کی طرف سے پابندیوں کے باوجود ایک قانون پر دستخط کر لیے ہیں جس کے تحت کرائمیا کو رسمی طور پر روس میں شامل کر دیا گیا ہے۔
جمعے کو اس کرائمیا سے متعلق قانون پر دستخط کرنے کے موقع پر ولادی میر پوتن کے ساتھ پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے سپیکر موجود تھے۔
صدر ولادی میر پوتن نے کرائمیا کا روس کی وفاق کا حصہ بننے پر جمعے کی رات کو جشن منانے کے لیے آتش بازی کے احتمام کا حکم دیا ہے۔
جمعرات کو امریکہ نے روس کے 20 اور یورپی یونین نے 12 روسی افراد پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے زد میں روسی پارلیمان کے سپیکر بھی ہیں۔
روسی ایوانِ بالا کی جانب سے کرائمیا کو روسی فیڈریشن کا حصہ بنانے کی منظوری کے بعد یورپی یونین کے رہنماؤں نے جمعے کو ہی یوکرین سے قریبی تعلقات کے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔
یورپی یونین نے اس معاہدے کا اعلان روس پر مزید پابندیوں کے نفاذ کے چند گھنٹے بعد برسلز میں کیا تھا۔
یورپی یونین کا ایسوسی ایشن معاہدہ یوکرین کی عبوری حکومت کو معاشی اور سیاسی حمایت فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا۔
تنظیم کے صدر ہرمن وان رمپیئے نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’یہ معاہدہ یوکرین کے عوام کی اس خواہش کو تسلیم کرتا ہے کہ وہ ایک ایسے ملک میں رہنا چاہتے ہیں جس پر روایات، جمہوریت اور قانون کے تحت حکومت کی جائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یوکرین کے وزیراعظم آرسینی یتسینیوک نے اس موقع پر کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ یورپی یونین یوکرین کے تحفظ کے سلسلے میں یک زبان ہو کر بات کرے گی۔‘
برسلز میں موجود بی بی سی کے میتھیو پرائس نے کہا کہ ’جمعے کو طے پانے والا معاہدہ مکمل طور پر وہ نہیں جسے روس نواز سابق یوکرینی صدر وکٹر یانوکووچ نے گذشتہ برس نومبر میں رد کر دیا تھا اور اس کے کئی حصوں پر مئی میں صدارتی الیکشن سے قبل دستخط نہیں ہوں گے۔‘
یورپی ممالک کی تنظیم نے جون میں روس سے سربراہی ملاقات اور دیگر دو طرفہ ملاقاتیں بھی منسوخ کر دی ہیں۔
یورپی یونین نے برسلز میں ہونے وانے والے اجلاس میں روس کے مزید 12 افراد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
امریکی پابندیوں سے متاثر ان 20 افراد میں صدر ولادمیر پوتن کے چیف آف سٹاف سرگئی ایوانوف اور امیر تجار آرکاڈے روٹن برگ اور گناڈے ٹیم چینکوف شامل ہیں۔ اس کے علاوہ روسیا بینک ان پابندیوں کی زد میں آیا ہے۔
پابندیوں کے متاثرین امریکی ڈالر میں خرید و فروخت نہیں کر سکیں گے، امریکہ میں ان کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اور ان پر امریکہ میں کاروبار کرنے پر پابندی ہوگی۔







