امریکہ اور یورپی یونین کی روس پر مزید پابندیاں

روسی حکام نے بھی امریکی ارکانِ پارلیمان اور حکام پر پابندیاں عائد کیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنروسی حکام نے بھی امریکی ارکانِ پارلیمان اور حکام پر پابندیاں عائد کیں

امریکہ اور یورپی یونین نے کرائمیا کو یوکرین سے علیحدہ کرکے اپنے ساتھ ملانے پر روس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یورپی یونین نے برسلز میں ہونے وانے والے اجلاس میں روس کے مزید 12 افراد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یورپین کونسل کے صدر ہرمن وان رمپیئے نے خبردار کیا کہ روس کی طرف سے یوکرین میں مزید عدم استحکام کے نتائج ہونگے۔

اس سے پہلے امریکہ نے روس کے 20 افراد پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ صدر ولادی میر پوتن کے قریبی ساتھی اور ان اتحادیوں کے زیرِاتنظام روس بینک ان پابندیوں کی زد میں آئے ہیں۔

پابندیوں سے متاثر ان 20 افراد میں صدر ولادمیر پوتن کے چیف آف سٹاف سرگئی ایوانوف اور امیر تجار آرکاڈے روٹن برگ اور گناڈے ٹیم چینکوف شامل ہیں۔

پابندیوں کے متاثرین امریکی ڈالر میں خرید و فروخت نہیں کر سکیں گے، امریکہ میں ان کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اور ان پر امریکہ میں کاروبار کرنے پر پابندی ہوگی۔

ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈینئل سینڈفورڈ کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے زد میں آنے والے افراد کی فہرست سے اندازہ ہوتا ہے کہ صدر ولادمیر پوتن روس کو کس طرح چلا رہا ہے۔ وہ حکمرانی میں اپنے قریبی دوستوں کو بروئے کار لا رہا ہے جن کی وفاداری پر کوئی سوال نہیں اٹھ سکتا اور ان میں سے اکثر کا تعلق سکیورٹی ایجنسیوں سے رہا ہے۔

ماسکو کی طرف سے کرائمیا کو اپنے ملک میں شامل کرنے کے لیے ایک معاہدے کی منظوری کے پیشِ نظر بین الاقوامی سطح پر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

صدر براک اباما نے کہا تھا کہ’روس کو یہ معلوم ہونے چاہیے کہ حالات میں اور بد تری روس کو بین الاقوامی برادری سے مزید دور کر لے گا۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ جنوبی اور مشرقی یوکرین میں صورتِ حال نظر رکھے ہوئی ہے جس کے بارے میں انھیں خدشات ہیں۔

صدر براک اوباما نے مزید کہا تھا کہ انھوں نے ایک حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کی رو سے امریکہ کی طرف سے روس کے مختلف شعبوں پر معاشی پابندیاں عائد کی گئیں ہیں۔

صدر براک اوباما کے بیان سے پہلے روس کے وزیرِخارجہ سرگئی لاوروف نے پارلیمان میں کہا تھا کہ ’کسی قسم ممکنہ پابندیاں غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہونگی۔‘

امریکی پابندیوں کے جواب میں میں روس نے بھی امریکی ارکانِ پارلیمان اور حکام پر پابندیاں عائد کیں۔

یاد رہے کہ امریکہ اور یورپی یونین نے اس سے پہلے اتوار کو کرائمیا میں ریفرنڈم کے بعد پیر کو بھی روس اور یوکرین کے بعض افراد پر پابندیاں عائد کیں تھیں۔

دوسری طرف کرائمیا میں روس کے حامی فوجیوں نے کم از کم یوکرین کے دو بحری جہازوں پر قبضہ کیا ہے۔ یوکرین کے وزاتِ دفاع کا کہنا ہے کہ کم از کم 15 افراد نے اس کارروائی میں حصہ لیا۔