دوستی بڑھائیں گے: یورپ کے یوکرین سے عہد و پیمان

،تصویر کا ذریعہAP
روسی ایوانِ بالا کی جانب سے کرائمیا کو روسی فیڈریشن کا حصہ بنانے کی منظوری کے بعد یورپی یونین کے رہنماؤں نے یوکرین سے قریبی تعلقات کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
یورپی یونین نے اس معاہدے کا اعلان روس پر مزید پابندیوں کے نفاذ کے چند گھنٹے بعد برسلز میں کیا ہے۔
یورپی یونین کا ایسوسی ایشن معاہدہ یوکرین کی عبوری حکومت کو معاشی اور سیاسی حمایت فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
تنظیم کے صدر ہرمن وان رمپیئے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ معاہدہ یوکرین کے عوام کی اس خواہش کو تسلیم کرتا ہے کہ وہ ایک ایسے ملک میں رہنا چاہتے ہیں جس پر روایات، جمہوریت اور قانون کے تحت حکومت کی جائے۔‘
یوکرین کے وزیراعظم آرسینی یتسینیوک نے اس موقع پر کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ یورپی یونین یوکرین کے تحفظ کے سلسلے میں یک زبان ہو کر بات کرے گی۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’روس کو روکنے کا بہترین طریقہ حقیقی معاشی پابندیوں کا نفاذ ہے۔‘
برسلز میں موجود بی بی سی کے میتھیو پرائس نے کہا ہے کہ ’جمعے کو طے پانے والا معاہدہ مکمل طور پر وہ نہیں جسے روس نواز سابق یوکرینی صدر وکٹر یانوکووچ نے گذشتہ برس نومبر میں رد کر دیا تھا اور اس کے کئی حصوں پر مئی میں صدارتی الیکشن سے قبل دستخط نہیں ہوں گے۔‘
ان کے مطابق اس کے علاوہ یورپ اور یوکرین کی تجارتی اتصال کے معاملے پر بھی ابھی دستخط نہیں ہوئے ہیں تاہم مجموعی طور پر اس معاہدے پر دستخط کر کے یورپی یونین نے کہہ دیا ہے کہ وہ باقی شقوں پر بھی دستخط کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یورپی یونین نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ یوکرین کے علاوہ دیگر دو سابق سویت ریاستوں جارجیا اور مولدوا سے بھی رواں برس موسمِ گرما میں اس قسم کے تعاون کے معاہدے کرے گی۔
یورپی ممالک کی تنظیم نے جون میں روس سے سربراہی ملاقات اور دیگر دو طرفہ ملاقاتیں بھی منسوخ کر دی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
خیال رہے کہ امریکہ اور یورپی یونین نے جمعرات کو کرائمیا کو یوکرین سے علیحدہ کرکے اپنے ساتھ ملانے پر روس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یورپی یونین نے برسلز میں ہونے وانے والے اجلاس میں روس کے مزید 12 افراد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پابندیوں سے متاثر ان 20 افراد میں صدر ولادمیر پوتن کے چیف آف سٹاف سرگئی ایوانوف اور امیر تجار آرکاڈے روٹن برگ اور گناڈے ٹیم چینکوف شامل ہیں۔ اس کے علاوہ روسیا بینک ان پابندیوں کی زد میں آیا ہے۔
پابندیوں کے متاثرین امریکی ڈالر میں خرید و فروخت نہیں کر سکیں گے، امریکہ میں ان کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اور ان پر امریکہ میں کاروبار کرنے پر پابندی ہوگی۔







