امریکی بجٹ بحران: رپبلکنز کی اوباما کو پیشکش

امریکہ میں جاری قرضوں کی حد میں اضافے کے بحران پر حزب اختلاف کے رہنماؤں اور صدر اوباما کے درمیان ملاقات ہوئی ہے تاہم اس ضمن میں کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔
ایوانِ نمائندگان میں اکثریتی جماعت رپبلکن کے رہنما ایرک کینٹر کے مطابق ملاقات مفید رہی اور بات چیت جاری رہنی چاہیے۔
رپبلکن جماعت نے صدر اوباما کو قرضوں کی حد میں عارضی طور پر اضافے کی پیشکش کی تھی تاکہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا جا سکے۔
حزب اختلاف پیشکش کے بدلے میں صدر اوباما سے بجٹ پر مذاکرات چاہتی ہے۔تاہم اطلاعات کے مطابق صدر اوباما نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
امریکہ میں وفاقی حکومت کی سرگرمیاں گذشتہ پیر اور منگل کی درمیانی شب اس وقت جزوی طور پر معطل ہو گئی تھیں جب حزبِ اختلاف کی اکثریت والے ایوانِ نمائندگان سے آئندہ مالی سال کا بجٹ منظور نہ ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس نے کچھ وفاقی محکموں کو کام بند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
صدر اوباما سے ملاقات سے پہلے ایوان نمائندگان میں رپبلکن پارٹی کے سپیکر جان بینر نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس معاہدے کے ساتھ صدر اوباما کو قرضوں کی حد میں عارضی طور پر اضافے کی پیشکش کریں کہ وہ بجٹ پر بات چیت کرنے پر اپنی رضامندی ظاہر کریں تاکہ شٹ ڈاؤن یعنی وفاقی محکموں کی بندش کو ختم کیا جا سکے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سپیکر جان بینر کے ترجمان کے مطابق یہ پیشکش صرف قرضوں کی حد میں اضافے تک محدود ہے اور اس میں کوئی اضافی پالیسی شامل نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا ہے کہ قرضوں کی حد میں وقتی اضافہ بائیس نومبر تک ہو گا۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے اس پیشکش پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’صدر اوباما اس بات پر خوش ہیں کہ بظاہر ٹھنڈے دماغ کے لوگ ہاؤس میں غالب آ رہے ہیں‘۔
تاہم انہوں نے مزید کہا ’رپبکنز کو ایوان میں اپنا کام کرنے کے بدلے میں بھتہ نہیں دیں گے‘۔
بدھ کو صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ وہ رپبلکن پارٹی سے بجٹ پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں لیکن اسے ملکی معیشت کے خلاف دھمکیوں سے دستبردار ہونا ہوگا۔
امریکی صدر کے بقول رپبلکنز کی جانب سے قرضوں کی حد میں اضافے اور حکومتی سرگرمیوں کی بحالی کے بدلے میں پالیسی رعایت کا مطالبہ ’بھتہ خوری‘ کے مترادف ہے۔
خیال رہے کہ امریکہ میں ’شٹ ڈاؤن‘ کی وجہ سے آٹھ لاکھ ملازموں کو بغیر تنخواہ رخصت پر جانا پڑا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے آئندہ سال کے لیے عالمی معیشت کی شرحِ نمو کے ہدف میں کمی کا اعلان کیا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق رواں سال عالمی اقتصادی ترقی کی شرح 2.9 فیصد متوقع ہے جب کہ آئندہ سال عالمی شرح نمو 3.9 فیصد رہنے کی توقع ہے۔







