امریکہ: لاکھوں سرکاری ملازمتیں خطرے میں

امریکی کانگریس میں ہیلتھ کیئر کے لیے فنڈ پر اختلاف رائے ہے
،تصویر کا کیپشنامریکی کانگریس میں ہیلتھ کیئر کے لیے فنڈ پر اختلاف رائے ہے

صدر اوباما کے ہیلتھ کیئر پلان پر حزب اختلاف اور حکومت میں اختلافات ختم نہ ہوئے تو اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں لاکھوں سرکاری ملازم تنخواہوں سے محروم ہو جائیں گے۔

اتوار کو ایوان نمائندگان نے جس میں ریپبلیکن پارئی کی اکثریت ہے، اس قانون کے لیے فنڈ روکنے کے حق میں ووٹ دیا جس کے بعد سرکاری سروسز کے بند ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

اگر سرکاری سروسز یکم اکتوبر کو بند ہوتی ہیں تو اکیس لاکھ سرکاری ملازمین میں سے ایک تہائی کو کام روکنا ہوگا اور اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ اس مسئلے کے حل ہونے کی صورت میں انہیں اس عرصے کی تنخواہیں ملیں گی۔

امریکی مالی سال پیر کی رات ختم ہو جائےگا اور اس سے قبل حکومت کے لیے اخراجات کے بل سے متعلق ایک نئی پالیسی پر اتفاق رائے کرنا ضروری ہے۔

اگر حکومت ایسا کرنے میں ناکام رہی تو غیر اہم سرکاری سروسز کو بند کرنا پڑے گا جس سے کئی افراد کی نوکریوں کو خطرہ ہوگا یا پھر وہ بغیر تنخواہ پر کام پر مجبور ہوں گے۔

اتوار کو ایوان نمائندگان نے اخراجات سے متعلق ترمیم شدہ بل منظور کیا جس میں صحت کے قانون کے لیے مختص کیاگیا فنڈ شامل نہیں کیا گیا۔

امریکی سینیٹ میں اکثریتی جماعت ڈیموکریٹ پارٹی کے سربراہ سینیٹر ہیری ریڈ کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کے اراکین اس ریپبلیکن بل کو رد کر دیں گے۔

لیکن سینٹ کی میٹنگ پیر کی سہ پہر ہوگی اور اس وقت ان کے پاس ایسا بل منظور کرنے کے لیے صرف چند گھنٹے ہوں گے جس میں ایسے نکات نہ ہوں جس سے یہ قانون نظر انداز ہو۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے کا کہنا تھا کہ ’اگر ریپبلیکن پارٹی کا کوئی رکن اس بل کے حق میں ووٹ دے گا تو وہ سروسز کے بند ہونے کے لیے ووٹ دے گا‘۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر اس ریپبلیکن بل کو ویٹو کر دیں گے۔

تاہم ایوان میں ریپبلیکن پارٹی کے اراکین نے ویٹو کیے جانے کے تمام اندیشوں کو رد کرتے ہوئے بل میں ترمیم کی اور اسے 192 کے مقابلے میں 231 سے منظور کروا لیا۔

سینیٹ میں صدر اوباما کی ڈیموکریٹ جماعت کی اکثریت ہے جبکہ ایوان نمائندگان میں ریپبلیکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔

اگر سرکاری سروسز یکم اکتوبر کو بند ہوتی ہیں تو پینشنوں میں تاخیر ہوگی اور ویزا اور پاسپورٹ کی درخواستوں پر عمل درآمداد کرنا مشکل ہو جائے گا۔

اہم سمجھے جانے والی سروسز جیسا کہ ایئر ٹریفک کنٹرول اور کھانے کی ضروری اشیاء کا معائنہ کرنے والے ادارے جاری رہیں گی۔

وزارت دفاع نے اپنے ملازمین سے کہا ہے کہ ملٹری کے باوردی ملازمین معمول کے مطابق کام کرتے رہیں گے جبکہ سویلین عملے سے گھر رہنے کو کہا جائے گا۔