سترہ سال میں پہلی بار امریکہ میں کام ٹھپ

امریکہ میں آٹھ لاکھ سرکاری ملازموں کو بغیر تنخواہ کے چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنامریکہ میں آٹھ لاکھ سرکاری ملازموں کو بغیر تنخواہ کے چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے

امریکہ میں حزبِ اختلاف کی اکثریت والے ایوانِ نمائندگان سے آئندہ مالی سال کا بجٹ منظور نہ ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس نے وفاقی محکموں کو کام بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

امریکی مالی سال تیس ستمبر کی رات واشنگٹن کے مقامی وقت کے مطابق رات بارہ بجے ختم ہوا اور اس سے قبل حکومت کے لیے اخراجات کے بل سے متعلق ایک نئی پالیسی کی منظوری ضروری تھی۔

تاہم حکومت اور حزب اختلاف کسی معاہدے پر نہ پہنچ سکے اور یوں غیر اہم سرکاری سروسز بند کرنے کے احکامات دے دیے گئے ہیں جس سے سات لاکھ سے زیادہ افراد کی نوکریاں خطرے میں ہیں۔ انہیں اب بغیر تنخواہ رخصت پر جانا ہوگا اور اس بات کی بھی ضمانت نہیں کہ جب یہ ڈیڈ لاک ختم ہوتا ہے تو انہیں اس عرصے کی تنخواہ ملے گی یا نہیں۔

بجٹ کی منظوری میں رکاوٹ امریکی صدر براک اوباما کے ہیلتھ کیئر پلان پر حزب اختلاف اور حکومت میں اختلافات ہیں۔ رپبلکن جماعت نے بجٹ کی منظوری کے لیے اس قانون کے نفاذ میں کم از کم ایک برس تاخیر کی شرط رکھی تھی جو حکومت کے لیے قابلِ قبول نہیں۔

ڈیڈ لائن کے خاتمے سے کچھ دیر قبل ایوانِ نمائندگان نے مسئلے کے حل کے لیے دونوں جماعتوں کے ارکان پر مشتمل کمیٹی بنانے کی تجویز دی تاہم ڈیموکریٹس نے کہا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے اور ’شٹ ڈاؤن‘ سے بچنا ممکن نہیں رہا۔

پیر کی شب بارہ بجنے سے چند منٹ پہلے وائٹ ہاؤس کے بجٹ افسر کی جانب سے وفاقی محکموں کو کام بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔

اس شٹ ڈاؤن کا سب سے پہلے نشانہ بننے والی خدمات میں امریکی پارلیمان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی تھا۔ یو ایس کیپیٹل کے اکاؤنٹ پر آخری پیغام یوں تھا: ’حکومتی فنڈنگ رکنے کی وجہ سے یہ اکاؤنٹ تا اطلاعِ ثانی بند رہے گا۔‘

رات بارہ بجے کے بعد امریکی صدر براک اوباما نے بھی ٹویٹ کیا ’وہ درحقیقت ایسا کر گزرے۔ رپبلکنز کے ایک گروپ نے اصل بجٹ منظور کرنے کی بجائے اوباما کیئر کے معاملے پر حکومت کو شٹ ڈاؤن پر مجبور کر دیا۔‘

یہ گذشتہ 17 برس میں پہلا موقع ہے کہ امریکی حکومت کو ’شٹ ڈاؤن‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے اور واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار مارک مارڈل کے مطابق امریکی سیاست میں موجود خلیج اتنی بڑھ گئی ہے کہ حکومت خود کام نہیں کر پا رہی۔

’شٹ ڈاؤن‘ سے کچھ دیر قبل صدر اوباما نے مسلح افواج کو تنخواہ کی فراہمی جاری رکھنے کے بل پر دستخط کیے۔

صدر اوباما نے حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کے بارے میں کہا کہ ’کوئی یہ یقینی طور پر کہہ سکتا ہے کہ یہی بحث چند ماہ میں دوبارہ نہیں کی جائے گی؟‘

اس سے قبل واشنگٹن میں کیپیٹل ہل پر پیر کو دن بھر اور پھر رات میں امریکی پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں ہلچل دیکھنے میں آئی جب حکومتی جماعت ڈیموکریٹ پارٹی کی اکثریت والی سینیٹ نے رپبلکن اکثریت والے ایوانِ نمائندگان میں منظور کیے جانے والے بجٹ بل اور ایمرجنسی فنڈنگ بل کو مسترد کر دیا۔

ان بلوں میں اوباما انتظامیہ کے ہیلتھ کیئر پلان کو مزید محدود کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

پیر کی شام سینیٹ نے 46 کے مقابلے میں 54 ووٹوں سے جو ایمرجنسی فنڈنگ بل مسترد کیا اس میں رپبلکن پارٹی نے حکومتی امور چلانے کے لیے عارضی فنڈنگ کی تجویز دی تھی تاہم اس میں ہیلتھ کیئر کے قانون کے نفاذ میں ایک برس کی تاخیر اور طبی آلات پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی بات بھی کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ 2010 میں منظور ہونے والے اس قانون کے بیشتر نکات کی توثیق ملک کی سپریم کورٹ کر چکی ہے اور وہ منگل سے ہر صورت میں نافذ العمل ہوں گے۔

یکم اکتوبر کو شٹ ڈاؤن کی صورت میں سرکاری سروسز کی بندش سے کل 21 لاکھ سرکاری ملازمین میں سے ایک تہائی کو کام روکنا پڑا ہے۔

سرکاری سروسز کی بندش کی صورت میں نہ صرف پنشن کی فراہمی میں تاخیر ہوگی بلکہ ویزے اور پاسپورٹ کی درخواستوں پر مقررہ وقت میں عمل درآمد کرنا مشکل ہو جائے گا۔

محکمۂ دفاع نے اپنے سویلین عملے سے گھر رہنے کو کہا ہے جب کہ شٹ ڈاؤن کی وجہ سے ملک کے 19 سمتھ سونین انسٹی ٹیوٹ، عجائب گھر، چڑیا گھر اور بہت سے نیشنل پارک بند ہو جائیں گے۔

اس کے علاوہ جہاں محکمۂ توانائی کے 12700 ملازمین گھر بھیج دیے جائیں گے وہیں محکمۂ صحت اور عوامی خدمات کے نصف سے زائد عملے کو جانا ہوگا۔

امریکہ میں بازارِ حصص میں بھی ’شٹ ڈاؤن‘ کے خدشات کی وجہ سے مندی دیکھی گئی ہے تاہم تجزیہ کاروں کے خیال میں ملک کی معیشت کو قابلِ ذکر نقصان تبھی پہنچے گا جب ممکنہ شٹ ڈاؤن چند دن سے زیادہ جاری رہے۔