امریکی شٹ ڈاؤن: کون متاثر ہوگا؟

امریکہ میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر کانگریس میں عدم اتفاق کے بعد وفاقی حکومت کے ’شٹ ڈاؤن‘ کا عمل شروع ہوگیا ہے اور اس کے نتیجے میں جہاں سات لاکھ ملازمین کو گھر بھیجا جا رہا ہے وہیں ملک کے نیشنل پارک، عجائب گھر، وفاقی عمارتیں اور خدمات فراہم کرنے والے وفاقی اداروں کو بندش کا سامنا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ملک کے اہم محکمے اور ادارے ان بندشوں سے کس طرح متاثر ہوں گے۔
محکمۂ دفاع

فوجی اہلکار اس بندش سے متاثر نہیں ہوں گے اور چودہ لاکھ فوجی خدمات سرانجام دیتے رہیں گے تاہم محکمے کے آٹھ لاکھ سویلین ملازمین میں سے نصف کو کام روکنا ہوگا۔
ان افراد میں سے کچھ نیشنل سکیورٹی یا قومی تحفظ کے معاملات سے وابستہ ہونے کی وجہ سے کام تو جاری رکھیں گے تاہم انہیں تنخواہ نہیں مل سکے گی۔
امریکی محکمۂ دفاع کے افسر رابرٹ ہیل کے مطابق فوجی اور دیگر شہری جنہیں کام جاری رکھنے کو کہا جائے گا، انہیں یہ معاملہ ختم ہونے کے بعد تنخواہوں کی ادائیگی ہوگی۔
امریکی صدر نے شٹ ڈاؤن شروع ہونے سے کچھ دیر قبل اس عرصے میں مسلح افواج کو تنخواہ کی مسلسل ادائیگی کے بل پر بھی دستخط کیے ہیں۔
محکمۂ توانائی

اس محکمے کے بیشتر دفاتر بند ہو جائیں گے اور اس کے چودہ ہزار کے لگ بھگ ملازمین میں سے صرف 1113 کو کام پر آنا ہوگا۔
ان 1113 ملازمین میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ملک کے جوہری ہتھیاروں کے تحفظ، ڈیموں اور بجلی کی فراہمی کے نظام کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جوہری ہتھیاروں اور نیول ری ایکٹر پروگرام کی منتظم نیشنل نیوکلیئر سکیورٹی ایڈمنسٹریشن کے مطابق 343 ملازمین کام رکھیں گے اور ’انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ سے متعلق امور سرانجام دیں گے‘۔
چار سو سے زیادہ ملازمین امریکہ کے جنوبی اور مغربی علاقوں کو بجلی کی فراہمی کے اداروں میں کام کرتے رہیں گے۔
سمتھ سونین ادارے

قومی چڑیا گھر اور نیچرل ہسٹری میوزیم، پورٹریٹ گیلری اور ایئر اینڈ سپیس میوزیم سمیت 19 عجائب گھر اور آرٹ گیلریاں بند ہو جائیں گی۔
تاہم ان اداروں کے 4202 ملازمین میں سے 688 کام جاری رکھیں گے۔
ان ملازمین میں محافظین، املاک کی دیکھ بھال کا عملہ اور چڑیا گھر میں جانوروں کو خوراک دینے والے افراد شامل ہیں۔
سمتھ سونین انسٹیٹیوشن کا کہنا ہے کہ ’شٹ ڈاؤن کے دوران ادارہ قانونی طور پر وفاقی ملازمین سے رضاکارانہ خدمات بھی نہیں لے سکتا۔‘
نیشنل پارک

امریکہ کے نیشنل پارک جن میں یوسیمِٹی، ایلکاٹریز اور مجسمۂ آزادی جیسے مقامات بھی شامل ہیں، بند کر دیے جائیں گے۔
نیشنل پارکس کے ساڑھے 24 ہزار ملازمین میں سے صرف 3200 کام کرتے رہیں گے جن میں آگ بجھانے کا عملہ، قانون کے نفاذ کے ذمہ داران اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کا عملہ شامل ہے۔
ان پارکوں میں موجود افراد سے فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کو کہا جائے گا اور یہاں شب بسر کرنے والوں کو قیام کے لیے کوئی اور جگہ ڈھونڈنا ہوگی۔ جہاں ممکن ہوا ان پارکوں کی سڑکیں اور داخلی راستے ہی بند کر دیے جائیں گے۔
محکمۂ ٹرانسپورٹ
اس محکمے کے ساڑھے 55 ہزار ملازمین میں سے 37 ہزار کے قریب نوکری جاری رکھیں گے۔

ان افراد میں ایئر ٹریفک کنٹرول سے لے کر خطرناک مواد کے معائنہ کاروں تک مختلف شعبوں سے وابستہ افراد شامل ہیں۔
فضائی ٹریفک کنٹرول کرنے والا بیشتر عملہ اس بندش سے متاثر نہیں ہوگا۔
خلائی آپریشن سے وابستہ عملہ بھی کام کرتا رہے گا۔ محکمے کے مطابق اکتوبر کے پہلے ہفتے میں کم از کم ایک راکٹ خلا میں روانہ کیا جانا ہے۔
قومی سلامتی کا محکمہ

اس اہم محکمے کے دو لاکھ 40 ہزار ملازمین میں سے 86 فیصد اس بندش سے مستثنیٰ ہیں۔ ان میں باوردی ایجنٹس اور ملک کے داخلی راستوں پر تعینات افسران بھی شامل ہیں۔
ساحلی محافظین کے بیشتر ارکان، خفیہ اداروں اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ملازمین بھی اس پابندی کی زد میں نہیں آتے۔
امریکہ کی امیگریشن اور شہریت سروس کے ملازمین بھی گرین کارڈ کے حصول کی درخواستوں پر کام کرتے رہیں گے۔
محکمۂ انصاف

یہ محکمہ بھی اس بندش سے زیادہ متاثر نہیں ہوگا اور اس کے 114,486 ملازمین میں سے 96,744 کام کرتے رہیں گے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ایجنٹ اور ان کا امدادی عملہ بھی شٹ ڈاؤن سے مستثنیٰ ہے کیونکہ ان کا کام قومی سلامتی اور جان و مال کے تحفظ سے متعلق ہے۔
ملک کی وفاقی جیلوں کا عملہ بھی اپنا کام جاری رکھے گا جب کہ انسدادِ منشیات کے محکمے میں جاری تحقیقات بھی بلاروک ٹوک جاری رہیں گی۔
محکمۂ ڈاک
امریکی محکمۂ ڈاک اپنے اخراجات خود پورے کرتا ہے اس لیے وہ بھی شٹ ڈاؤن سے متاثر نہیں ہوگا اور معمول کے مطابق کام کرے گا۔
محکمۂ ڈاک اپنے روزمرہ اخراجات کے لیے امریکی حکومت سے کوئی رقم نہیں لیتا اور یہ رقم ٹکٹوں اور دیگر سامان کی فروخت سے حاصل کی جاتی ہے۔







