سب فریق جنگی جرائم کے مرتکب ہیں: اقوام متحدہ

    • مصنف, مارک مارڈیل
    • عہدہ, شمالی امریکہ کے ایڈیٹر

تمام فریقن جنگی جرائم میں ملوث

شام میں ڈھائی سال سے جاری کشیدگی کی وجہ سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں
،تصویر کا کیپشنشام میں ڈھائی سال سے جاری کشیدگی کی وجہ سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں

شام میں انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق تمام فریق جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر تشدد اور ریپ یعنی جنسی استحصال کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حکومتی افواج نے کلسٹر بموں کا بہت استعمال کیا ہے، جب کہ باغی افواج لوگوں پر الزام عائد کرتے ہی صفائی کا موقع دیے بغیر ہی انہیں قتل کر رہی ہیں۔

ادھر امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ شام کے خلاف فوجی کارروائی کے ووٹ کو مؤخر کردیا گیا ہے کیونکہ امریکہ چاہتا ہے کہ شام کو اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے روس کے ساتھ کام کرے۔

انہوں نے کہا لیکن سفارت کاری کی ناکامی کی صورت میں وہ شام کے خلاف فوجی کارروائی کی آپشن کو قائم رکھے گا۔

براک اوباما نے منگل کو ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکی قوم جنگوں سے تنگ آ چکی ہے۔ انھوں نے عوام کو یہ یقین دہانی کروائی کہ شام پر زمینی حملہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی وہاں خلاف افغانستان کی طرح لمبے عرصے تک کارروائی ہوگی۔

رپورٹ کے مصنف اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ان افراد کے ناموں کی طویل فہرست موجود ہے جنہوں نے جنگی جرائم کیے ہیں اور ان کو انصاف کے کٹہرے تک لایا جانا چاہیے۔

ان تفتیش کاروں کو شام میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور انہیں نے عینی شاہدین کے بیانات، ویڈیو گواہیوں اور سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے یہ رپورٹ تیار کی ہے۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی حکام کے مطابق وزیرِ خارجہ جان کیری جمعرات کو اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ملاقات کر رہے ہیں۔

امریکہ کا دعویٰ ہے کہ شامی حکومت نے 21 اگست کو اپنے عوام پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے جس میں 1429 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم دمشق ان الزامات کو رد کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال باغیوں نے کیا ہے۔

علاوہ ازیں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا شام کے معاملے پر ایک اہم اجلاس ہونا تھا لیکن اسے مزید مشاورت کے لیے منسوخ کر دیا گیا۔ روس نے اس اجلاس کی درخواست کی تھی جسے بعد میں اس نے واپس لے لیا۔

برطانوی حکومت کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے معاملے پر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی طرف سے مشترکہ قرارداد کے متن پر ابھی تک اتفاق نہیں ہوا ہے۔

برطانیہ، امریکہ اور فرانس چاہتے ہیں کہ شامی کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کے حوالے سے حتمی وقت کا

تعین کیا جائے اور اس میں شام کی طرف سے ناکامی کی صورت میں نتائج کو بھی قرارداد میں واضح کر دیا جائے۔

ادھر روس نے موقف اختیار کیا ہے کہ انھیں کوئی بھی ایسا قرارداد قابلِ قبول نہیں ہوگی جس میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی ذمہ داری شام پر ڈالی جائے۔ روس نے زور دیا ہے کہ ان کی طرف سے شامی کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی تجویز کی حمایت کی جائے۔

اوباما کی تقریر پر سوالات

شام نے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی روسی تجویز تسلیم کر کے سب کچھ تبدیل کردیا ہے
،تصویر کا کیپشنشام نے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی روسی تجویز تسلیم کر کے سب کچھ تبدیل کردیا ہے

امریکہ کے صدر براک اوباما کی تقریر میں سب سے اچھی لائن تھی کہ ’امریکی فوج چھوٹی کارروائی نہیں کرتی‘ لیکن اس سے وہ شائد زیادہ تر کی رائے تبدیل نہ کرسکیں۔

انہوں نے اوول آفس میں بیٹھ کر تقریر کرنے کی بجائے پوڈیم کے پیچھے کھڑے ہو کر تقریر کی اور اس میں واضح طور پر جوش دکھائی نہیں دے رہا تھا اور یہ نئی وجوہات سے محروم تھی۔ تقریر کا پہلا دو تہائی حصہ بے شک پہلی سے کی گئیں تقاریر سے کاپی پیسٹ یعنی پرانے جملوں کا استعمال کیا گیا تھا۔

جس وقت وہ شام میں فوجی کارروائی کے کیس پر بات کر رہے تھے اس سے پہلے ہمیں معلوم تھا کہ اس میں’اگر‘ آ رہا ہے۔

اگر وہ اب بھی شام پر فوجی کارروائی کے بارے میں کہہ رہے ہوتے اور اگر وہ چاہتے کہ امریکی عوام اپنے سیاستدانوں پر دباؤ ڈالے تو ان کو اپنی تقریر بہت زیادہ بہتر بنانی پڑتی۔

لیکن شام نے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی روسی تجویز تسلیم کر کے سب کچھ تبدیل کردیا ہے۔

انہوں نے اپنی تقریر میں اس رائے پر مایوسی کا اظہار نہیں کیا لیکن کہا ہے کہ ’یہ ایک حوصلہ افزا اشارہ‘ ہے۔ انہوں نے کانگریس سے کہا ہے کہ وہ شام میں محدود فوجی کارروائی سے متعلق مجوزہ قرارداد پر ووٹنگ کا عمل مؤخر کر دے اور اس کے ساتھ برطانیہ اور فرانس سے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کریں اور چین، روس سے بات کریں۔

وہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی رپورٹ کا انتظار کریں گے۔ کسی بھی سفارتی حل میں ناکامی کی صورت میں امریکی فوج کارروائی کے لیے تیار ہو گی۔

اس سے جوابات کی بجائے مزید سوالات سامنے آئے ہیں۔

ہم نہیں جانتے کہ صدر اوباما سفارتی کوششوں کو کتنا وقت دیں گے اور اس میں ناکامی کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں۔

ہم نہیں جانتے کہ تین مغربی ممالک ایک ایسی قرارداد کے ساتھ آگے بڑھیں گے جس میں طاقت کے استعمال کی بات کی جائے گی یا ایک معتدل راستہ اپنائیں گے۔

ہمیں اس بارے میں کچھ اندازہ نہیں ہے کہ ایک ایسے ملک میں اقوام متحدہ کے انسپکٹرز کیسے کام کریں گے جہاں خانہ جنگی ہو رہی ہے۔

صدر اوباما کی آئندہ چند کے لیے کی گئی تقریر کے لیے وقت کے انتخاب نے اسے تقریباً بے معنی بنا دیا۔

اس کے بعد اہم مصروفیات میں جمعرات کو جنیوا میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ملاقات ہے۔

اس کے بعد ہونے والی تقاریر سے ممکن ہو سکتا ہے کہ ہمیں کچھ معلوم ہو سکے۔