امریکہ کے عالمی کردار پر سوال

- مصنف, مارک مارڈیل
- عہدہ, شمالی امریکہ کے ایڈیٹر
صدر براک اوباما شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے پوری طرح سے لوگوں کو راضی کرنے میں لگے ہیں کیونکہ یہ امریکہ کی ساکھ کے لیے انتہائي اہم ہے۔
عالمی قوت کے طور پر امریکہ کے اپنے ادراک کے لیے بھی یہ نازک مرحلہ ہے۔ لیکن شام کی جزیات پر بحث کے دوران سب سے بڑا سوال اور تصویر کا بڑا منظر نامہ کہیں گم ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔
در اصل بات یہ ہے کہ کیا دنیا کو کسی سوپر فوج دار کی ضرورت ہے اور کیا امریکہ کو اس کردار کو نبھانا چاہیے یا نہیں۔
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون، سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی طرح صدر براک اوباما کے سامنے مشرق وسطیٰ میں مداخلت کے دو دلائل ہیں۔ یہ دونوں آپس میں ملتے جلتے ہیں لیکن وہ منفرد ہیں۔
پہلا ہے قومی مفاد۔ صدر اوباما کا کہنا ہے کہ شام امریکہ کے لیے فوری خطرہ نہیں ہے لیکن شام کے ذریعے کیمیائی ہتھیار کے استعمال سے اس خطے میں ان کے اتحادیوں کے ٹھکانے خطرے میں ہیں۔
ان کی انتظامیہ نے بہر حال اس کا خدشہ کم ہی ظاہر کیا ہے کہ یہ ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں جو انہیں امریکہ کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔
یہ ظاہر ہے کہ جو جتنی بڑی عالمی قوت ہے اس کے مفادات اتنے ہی زیادہ ہیں اور انھیں کہیں دور دراز کے علاقے میں ہونے والے واقعات سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اگر مشرق وسطیٰ کے تمام علاقے میں ہنگامہ بپا ہو تب بھی پیراگوئے یا لیٹویا جیسے ممالک کو اس سے کیا سروکار ہو سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قومی مفاد کے لیے دیے جانے والے دلائل بالکل واضح ہیں لیکن شام کے معاملے میں دخل دینے کی خواہش کو اخلاقی جواز نہیں کہا جا سکتا۔
مسٹر اوباما اور ان سے بھی زیادہ واضح انداز میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ امریکہ دنیا سے الگ تھلگ رہ کر اس قسم کی تکالیف کا خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا، بطور خاص ایسی صورت میں جبکہ شام بین الاقوامی اقدار کی پامالی کر رہا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس معاملے میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے سینیئر سیاستداں مداخلت کے حق میں ہیں چاہے یہ مداخلت آزادانہ ہی کیوں نہ ہو۔
اس ضمن میں صرف روس ہی ایسا ملک نہیں ہے جو ان کی مخالفت کررہا ہے بلکہ چین بھی اس کے حق میں نہیں ہے۔
میں وہاں کے حالیہ دورے کے بعد اس بات سے اتفاق کرنے لگا ہوں کہ اس بابت ان کا موقف درست ہے۔ ماہر تعلیم ہوں یا عام لوگ سب اس بات پر حیرت زدہ ہیں کہ آخر امریکہ اپنی اقدار ساری دنیا پر کیوں نافذ کرنا چاہتا ہے۔
چین بار بار زور دے کر یہ کہتا رہا ہے کہ وہ اپنے حلیف شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار سے پاک کرنا چاہتا ہے لیکن وہ اس مسئلے پر زور دینے میں ہچکچاتا ہے۔
یہ صرف کمیونسٹ اور سابق کمیونسٹ ممالک کی بات نہیں ہے۔ آپ بھارت، برازیل، نائیجیریا اور جاپان سے بھی فوجی مداخلت کی آواز اٹھتی نہیں سنیں گے۔
جو ممالک مشرق وسطیٰ کے بحران کے دروازے پر ہیں وہ یہ خواہش رکھتے ہوں گے کہ کوئی اس بابت کچھ کرے لیکن اگر ان سے پوچھا جائے تو وہ اس ذمہ داری کو خود اٹھانا چاہیں گے۔
ایک عالمی داروغہ کے پاس زیادہ اخلاقی قوت ہوتی اگر وہ قدیم سامراجی قوت یا امریکہ نہ ہو۔
ایک بار میں نے ٹونی بلیئر سے کہا تھا کہ اگر عراق کے خلاف اقدام کا مطالبہ سوئیڈن کی جانب سے آیا ہوتا تو اس کا جواز زیادہ ہوتا۔ اس پر انھوں نے کہا تھا: ’وہ ایسا نہیں کر سکتے، کیا وہ ایسا کر سکتے ہیں؟‘
ان کے اس جواب پر مجھے وہ کہاوت یاد آگئي کہ ہتھوڑے کے لیے ہر مسئلہ کیل ہے۔ ایسے میں آپ یہ سوچیں گے کہ آخر ہتھوڑے کو بنایا ہی کیوں گيا۔
برطانیہ نے دنیا بھر میں پھیلی اپنی سلطنت کی حفاظت کے لیے فوج کھڑی کی تھی۔ امریکہ نے یورپ میں مداخلت کے لیے اپنی فوج تیار کی اور پھر روس کو چیلنج دینے کے لیے۔
اصلی مقصد کی عدم موجودگی کے باوجود مداخلت کا جذبہ ختم نہ ہو سکا۔
امریکہ پرانی استعماری طاقتوں سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس کا ایجنڈا نسل پرستی پر مبنی نہیں ہے، لیکن وہ بھی اسی جوش و خروش سے بقیہ دنیا پر اپنی اقدار مسلط کرنا چاہتا ہے۔
مانا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنا تلوار کی نوک پر جمہوریت نافذ کروانے کے مترادف نہیں ہے۔ لیکن اس سے اسی قسم کے سوالات اٹھتے ہیں کہ آخر فیصلہ کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے کہ کون سے قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور کون اس پر کیا سزا دے گا۔
ایک ممکنہ ادارہ اقوامِ متحدہ ہے لیکن امریکہ کا کہنا ہے کہ روس کے ویٹو کی وجہ سے سلامتی کونسل مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی وکیلِ استغاثہ کہے کہ چونکہ جیوری اس کے حق میں فیصلہ نہیں دے رہی اس لیے جیوری کا نظام ہی غلط ہے۔
یا پھر ڈیوڈ کیمرون کہیں کہ پارلیمنٹ کام نہیں کر رہی کیوں کہ اس نے شام کے خلاف کارروائی کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔
لیکن اب صدر اوباما نے فیصلہ کر لیا ہے کہ (فرانس کے علاوہ) کوئی اور ملک چیلنج قبول نہیں بھی کرتا تو تب بھی امریکہ اپنے طور پر کارروائی کرے گا۔ امریکہ کے اندر اور باہر کم ہی لوگ ان کے ساتھ ہیں، لیکن ان کے پاس کوئی اور جواب بھی تو نہیں۔







