شام پر حملہ روکا جا سکتا ہے: امریکی صدر

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اگر شام اپنے کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی کنٹرول میں دے دیتا ہے تو وہ شام پر امریکی حملے کا منصوبہ روک دیں گے۔
تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس بات پر زیادہ پرُ امید نہیں ہیں کہ شامی حکومت ایسا کرے گی۔
<link type="page"><caption> ’کیمیائی ہتھیار ترک کر دو‘: شام کو روسی تجویز</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/09/130909_syria_russia_weapons_sa.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’کارروائی نہ کرنے کے خطرات، کرنے سے زیادہ‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/09/130909_syria_bigger_risk_not_attack_tim.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> امریکہ کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے: بشار الاسد</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/09/130908_asad_deny_accusation_ra.shtml" platform="highweb"/></link>
جہاں امریکی کانگرس شام پر حملے کی منظوری پر غور کر رہی ہے وہیں پیر کے روز روس نے شامی حکومت کو کیمیائی ہتھیار ترک کرنے کی تجویز دی تھی۔
امریکہ کا دعویٰ ہے کہ شامی حکومت نے اپنے عوام پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں اور جنگی جرائم کی مرتکب ہے تاہم دمشق ان الزامات کو رد کرتا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے شام پر حملے کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے یورپ کا دورہ بھی کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر براک اوباما نے امریکی عوام اور کانگریس میں شام پر حملے کی حمایت پیدا کرنے کے لیے چند ٹی وی چینلوں کو انٹر ویو دیے ہیں۔ صدر کا موقف ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سزا دینے اور مستقبل میں ان کے استعمال سے روکنے کے لیے ایک محدود فوجی کارروائی کی ضرورت ہے۔
صدر کا کہنا ہے کہ ’میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف موجود روایت قائم رہے۔‘
انہوں نے کہا ’یہ ہماری قومی سلامتی کے لیے مفید ہے۔ اگر ہم حملے کیے بغیر یہ حاصل کر سکتے ہیں تو میں اس راستے کو ترجیح دوں گا۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ اگر بشار الاسد اپنے کیمیائی ہتھیاروں کا کنٹرول چھوڑ دیتے ہیں تو کیا وہ شام پر حملے کا منصوبہ روک دیں گے، صدر کا کہنا تھا ’بالکل، اگر یہ حقیقتاً ہو گیا۔‘
دوسری طرف امریکی عوام شام پر حملے کے خلاف ہیں۔ خبر رساں ادارے اے پی کے عوامی جائزوں کے مطابق پانچ میں سے ایک امریکی شہروں کا خیال ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر شام کے خلاف کارروائی نہ کرنے سے دوسری حکومتوں کو شیہ ملے گی۔
اس سے پہلے روس نے شام سے کہا تھا کہ امریکی حملے سے بچنے کے لیے وہ اپنے کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی کنٹرول میں دے اور بعد میں اسے تباہ کروا دے۔
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروو کے مطابق انھوں نے یہ تجویز شامی وزیرِ خارجہ ولید معلم سے ملاقات میں دی تھی جس کا انھوں نے خیر مقدم کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ولید معلم کو مشورہ دیا تھا کہ شام مکمل طور پر عالمی کنوینشن برائے کیمیائی ہتھیار میں شمولیت اختیار کر لے۔
اس سے پہلے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے خبردار کیا تھا کہ شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال پر فوجی کارروائی نہ کرنے میں خطرات کارروائی کرنے کے خطرات سے زیادہ ہیں۔

ایک نیوز کانفرنس میں اس سوال کے جواب میں کہ حملے سے بچنے کے لیے بشار الاسد کیا کر سکتے ہیں، جان کیری کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کیمیائی ہتھیاروں کا مکمل ذخیرہ ایک ہفتے میں جمع کروا دیں۔
بعد میں امریکی حکام نے وضاحت کی کہ جان کیری ایک سنجیدہ پیشکش کی بجائے فرضی صورتحال پر بات کر رہے تھے۔
یاد رہے کہ شامی صدر بشار الاسد نے ایک امریکی ٹی وی کو بتایا ہے کہ امریکہ کے پاس اس بات کا ’کوئی ثبوت‘ نہیں ہے کہ شام نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔
امریکہ کا دعویٰ ہے کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت نے اکیس اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کے ایک حملے میں ایک ہزار چار سو انیس افراد کو ہلاک کیا ہے جس سے شام انکار کرتا ہے۔







