شام پر حمایت، کیری کی عرب لیڈروں سے ملاقات

’یہ وقت ہے ایک ٹارگیٹڈ اور محدود مگر واضح اور موثر ردِ عمل کا ہے جس میں بشارالاسد جیسے آمروں کو ان کے مظالم کے لیے ذمہ دار ٹہرایا جائے‘۔ جان کیری
،تصویر کا کیپشن’یہ وقت ہے ایک ٹارگیٹڈ اور محدود مگر واضح اور موثر ردِ عمل کا ہے جس میں بشارالاسد جیسے آمروں کو ان کے مظالم کے لیے ذمہ دار ٹہرایا جائے‘۔ جان کیری

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری پیرس میں شام کے خلاف فوجی کارروائی کے حق میں حمایت حاصل کرنے کے لیے عرب لیڈروں سے ملاقات کر رہے ہیں۔

اس سے قبل جان کیری کا کہنا تھا کہ شام میں امریکہ کی ممنکنہ فوجی کارروائی کی حمایت کرنے والے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس کے بعد جان کیری پیرس سے لندن آئیں گے جہاں وہ فلسطینی صدر محمود عباس اور برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ سے ملاقات کریں گے۔

امریکہ کا دعویٰ ہے کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت نے اکیس اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کے ایک حملے میں ایک ہزار چار سو انیس افراد کو ہلاک کیا ہے۔

ادھر یورپی یونین نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا ذمہ دار بشار الاسد کی حکومت کو ٹھہرایا لیکن یورپی برادری نے اس کے خلاف فوجی کارروائی کی بات نہیں کی ہے۔ یورپی یونین کا موقف ہے کہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی رپورٹ سے پہلے شام میں کوئی فوجی کارروائی نہ کی جائے۔

یاد رہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شام کے خلاف یکطرفہ کارروائی کرنے پر خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اقوام متحدہ سے منظوری کے بغیر شام کے خلاف کوئی بھی فوجی کارروائی ’جارحیت‘ ہو گی۔

بشار الاسد کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے اہم حامی فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند کا کہنا ہے کہ ان کی توقع کے مطابق اقوام متحدہ کے معائنہ کار اپنی ابتدائی رپورٹ آئندہ ہفتے کے اختتام تک جمع کروا دیں گے۔

اس سے پہلے روس میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شام کے معاملے پر کوئی اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہوسکا۔ روسی صدر پوتن کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا ذمہ داری شام میں باغی فوجوں کو ٹھہراتے ہیں۔

صدر اوباما کہہ چکے ہیں کہ شام میں فوجی مداخلت محدود وقت اور اہداف کے ساتھ کی جائے گی جس کا بنیادی مقصد صدر بشار الاسد کو شامی عوام کے حلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے سے روکنا اور اس سلسلے میں ان کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہوگا۔

اقوام متحدہ کے مطابق گذشتہ ڈھائی سال سے جاری شام میں کشیدگی کی وجہ سے ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جان کیری اس وقت یورپ کے چار روزہ دورے پر ہیں۔ اپنے فرانسیسی ہم منصب سے ملاقات میں انہیں نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر ردِ عمل ظاہر کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ جان کیری نے کہا کہ عالمی برادری کے سامنے ایک بار پھر ایک ’میونخ‘ لمحہ آیا ہے۔ ان کا اشارہ تیس کی دہائی میں نازی جرمنی کی ساتھ محالصتی پالیسی کی جانب تھا۔

انہوں نے کہا ’امریکہ اور ہمارے فرانسیسی ساتھی جانتے ہیں کہ یہ وقت قتل عام کے خاموش تماشائی بننے کا نہیں ہے۔‘

’یہ وقت ہے ایک ٹارگیٹڈ اور محدود مگر واضح اور موثر ردِ عمل کا ہے جس میں بشارالاسد جیسے آمروں کو ان کے مظالم کے لیے ذمہ دار ٹہرایا جائے۔‘

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ لتھونیا کے دارالحکومت میں ہونے والے اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیمیائی ہتھیار شام کی فوج کی جانب سے استعمال کیے گئے۔

’امریکہ اور ہمارے فرانسیسی ساتھی جانتے ہیں کہ یہ وقت قتل عام کے خاموش تماشائی بننے کا نہیں ہے‘۔ جان کیری
،تصویر کا کیپشن’امریکہ اور ہمارے فرانسیسی ساتھی جانتے ہیں کہ یہ وقت قتل عام کے خاموش تماشائی بننے کا نہیں ہے‘۔ جان کیری

انہوں نے کہا کہ شام میں صرف حکومت کے پاس ہی کیمیائی ہتھیار ہیں اور وہ ہی ان کو استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یورپی وزراء خارجہ کا کہنا تھا کہ دنیا اس بہیمانہ فعل پر خاموش نہیں رہ سکتی اور یہ کیمیائی ہتھیاروں کے مستقبل میں استعمال کے خطرے کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ اس پر سخت رد عمل ظاہر کیا جائے۔

لیکن یورپی یونین کے بیان میں براہ راست کسی فوجی کارروائی کرنے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جس کا امریکہ اور فرانس مطالبہ کر رہے ہیں۔

فرانس اور امریکہ نے یورپی یونین کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔

جان کیری بھی ولنیس میں موجود تھے اور انھوں نے یورپی برادری کا شکریہ ادا کیا۔

جان کیری اب لندن روانگی سے پہلے عرب لیگ کے مندوبین سے ملاقات کریں گے۔