یورپی یونین کو فوجی کارروائی پر تحفظات

مغربی ملکوں کے اس گروپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ اسد حکومت کے خلاف کسی بھی رد عمل میں اقوام متحدہ کا کردار ہونا چاہیے
،تصویر کا کیپشنمغربی ملکوں کے اس گروپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ اسد حکومت کے خلاف کسی بھی رد عمل میں اقوام متحدہ کا کردار ہونا چاہیے

یورپی یونین نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا ذمہ دار بشار الاسد کی حکومت کو ٹھہرایا لیکن یورپی برادری نے اس کے خلاف فوجی کارروائی کی بات نہیں کی ہے۔

ایک انتہائی محتاط الفاظ میں لکھے گئے بیان میں جو اٹھائیس مغربی ملکوں کے وزراء خارجہ کے ولنیس میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری ہوا فرانس کو بظاہر یہ موقع مل گیا کہ وہ اسد حکومت کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا ذمہ دار ٹھہرانے پر ان ملکوں کو قائل کرنے پر خوش ہو جائے۔

لیکن مغربی ملکوں کے اس گروپ نے واضح طور پر کہا کہ اسد حکومت کے خلاف کسی بھی رد عمل میں اقوام متحدہ کا کردار ہونا چاہیے۔ جرمنی کا بھی یہی موقف رہا ہے جس کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی رپورٹ پیش ہونے سے قبل شام کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی جانی چاہیے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ لتھونیا کے دارالحکومت میں ہونے والے اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیمیائی ہتھیار شام کی فوج کی جانب سے استعمال کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ شام میں صرف حکومت کے پاس ہی کیمیائی ہتھیار ہیں اور وہ ہی ان کو استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یورپی وزراء خارجہ کا کہنا تھا کہ دنیا اس بہیمانہ فعل پر خاموش نہیں رہ سکتی اور یہ کیمیائی ہتھیاروں کے مستقبل میں استعمال کے خطرے کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ اس پر سخت رد عمل ظاہر کیا جائے۔

لیکن یورپی یونین کے بیان میں براہ راست کسی فوجی کارروائی کرنے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جس کا امریکہ اور فرانس مطالبہ کر رہے ہیں۔

فرانس اور امریکہ نے یورپی یونین کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری بھی ولنیس میں موجود تھے اور انھوں نے یورپی برادری کا شکریہ ادا کیا۔