شام پر دباؤ جاری رکھیں گے: براک اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ، شام کو اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے روس کے ساتھ کام کرے گا لیکن سفارتکاری کی ناکامی کی صورت میں وہ شام کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی کو قائم رکھے گا۔
براک اوباما نے منگل کو ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکی قوم جنگوں سے تنگ آ چکی ہے۔ انھوں نے عوام کو یہ یقین دہانی کروائی کہ شام پر زمینی حملہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ان کے خلاف افغانستان کی طرح لمبے عرصے تک کارروائی ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ شام کے خلاف کسی کارروائی میں محدود پیمانے پر فضائی حملے کیے جائیں گے جس کا مقصد شامی صدر بشارالاسد کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے روکنا ہے۔ اُن کا موقف تھا کہ ممکنہ حملے کے بعد شام کے مسئلے کے سیاسی حل کے لیے کوششیں دوبالا کی جائیں گی۔
براک اوباما نے کہا کہ وہ کچھ عرصے سے شام کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کر رہے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ طاقت سے شام میں خانہ جنگی ختم نہیں ہوگی۔ لیکن انھوں نے اپنا ذہن اس وقت تبدیل کیا جب شامی حکومت نے مبینہ طور پر اپنے لوگوں کے خلاف سارن گیس کا استعمال کیا۔
<link type="page"><caption> کیمیائی اسلحہ:’شام کو روس کی تجویز منظور ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/09/130910_syria_accept_russia_proposal_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ہوا ہے جس میں ہزاروں شہری مارے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بچوں، خواتین اور مردوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تصوریریں اور ویڈیو فوٹیج انتہائی افسوس ناک ہے جس پر ردِعمل ظاہر کرنے کی ضرورت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
براک اوباما نے کہا کہ انھوں نے شامی ہتھیاروں کو بین اولاقوامی کنٹرول میں دینے اور انہیں تباہ کرنے کی روسی تجویز کا خیرمقدم کیا ہے۔ لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ تجویز کامیاب ہوگی یا نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کسی بھی قسم کے سمجھوتے میں اس بات کی تصدیق کرنا ضروری ہے کہ بشارالاسد اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ اس تجویز سے یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ طاقت کے استعمال کے بغیر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ ٹل جائے گا۔‘
خیال رہے کہ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ شامی حکومت نے 21 اگست کو اپنے عوام پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جس میں 1429 افراد ہلاک ہوئے تاہم دمشق ان الزامات کو رد کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال باغیوں نے کیا ہے۔
براک اوباما نے کہا کہ وہ وزیرِخارجہ جان کیری کو جمعرات کو اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے شام کے مسئلے پر بات چیت کے لیے بھیج رہے ہیں۔
امریکی کانگریس میں اس ہفتے شام کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے قرار داد پر ووٹنگ ہونی تھی لیکن روسی تجویز کی وجہ سے اسے مؤخر کر دیا گیا ہے۔
شام نے روس کی تجویز کو منظور کیا ہے۔ شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے روس کے دورے کے دوران کہا تھا کہ شام کو کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی تحویل میں دینے کی روسی تجویز منظور ہے۔
روس کے خبر رساں ادارے انٹر فیکس کے مطابق شام کے وزیرِ خارجہ ولید المعلم نے منگل کو کہا کہ دمشق کیمیائی ہتھیاروں کے بین الاقوامی کنونشن میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم اس کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور ان ہتھیاروں کے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘
یاد رہے کہ شامی صدر بشار الاسد نے ایک امریکی ٹی وی چینل کو بتایا تھا کہ امریکہ کے پاس اس بات کا ’کوئی ثبوت‘ نہیں ہے کہ شام نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔







