شام کا کیمیائی اسلحہ ختم کرنے کے لیے قرارداد

فرانس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کرے گا جس میں شام سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی تحویل میں دے دے تاکہ انھیں تباہ کیا جا سکے۔
فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اگر شام نے کیمیائی ہتھیاروں کی پابندیوں کی خلاف ورزی کی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔
قرارداد میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیروں کے مکمل معائنے کی درخواست کی جائے گی۔
STY’کیمیائی ہتھیار ترک کر دو‘: شام کو روسی تجویز’کیمیائی ہتھیار ترک کر دو‘: شام کو روسی تجویزروس نے شام سے کہا ہے کہ امریکی حملے سے بچنے کے لیے وہ اپنے کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی کنٹرول میں دے اور بعد میں اسے تباہ کروا دے۔2013-09-09T22:17:42+05:002013-09-09T23:27:01+05:00PUBLISHEDurtopcat2
STY’کارروائی نہ کرنے کے خطرات، کرنے سے زیادہ‘’کارروائی نہ کرنے کے خطرات کرنے سے زیادہ‘امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے خبردار کیا ہے کہ شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر ردِ عمل نہ دکھانے میں خطرات کارروائی کرنے کے خطرات سے زیادہ ہیں۔2013-09-09T16:25:40+05:002013-09-09T18:37:41+05:00PUBLISHEDurtopcat2
STYشام پر حملہ روکا جا سکتا ہے: امریکی صدرشام پر حملہ روکا جا سکتا ہے: امریکی صدرامریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اگر شام اپنے کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی کنٹرول میں دے دیتا ہے تو وہ شام پر امریکی حملے کا منصوبہ روک دیں گے۔2013-09-10T03:34:27+05:002013-09-10T09:55:50+05:00PUBLISHEDurtopcat2
اس سے پہلے امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ اگر شام اپنے کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی کنٹرول میں دے دیتا ہے تو وہ شام پر امریکی حملے کا منصوبہ روک دیں گے۔
تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس بات پر زیادہ پرُ امید نہیں ہیں کہ شامی حکومت ایسا کرے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جہاں امریکی کانگرس شام پر حملے کی منظوری پر غور کر رہی ہے وہیں پیر کے روز روس نے شامی حکومت کو کیمیائی ہتھیار ترک کرنے کی تجویز دی تھی۔
امریکہ کا دعویٰ ہے کہ شامی حکومت نے اپنے عوام پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں اور جنگی جرائم کی مرتکب ہوئے ہے تاہم دمشق ان الزامات کو رد کرتا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے شام پر حملے کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے یورپ کا دورہ بھی کیا ہے۔
صدر براک اوباما نے امریکی عوام اور کانگریس میں شام پر حملے کی حمایت پیدا کرنے کے لیے چند ٹی وی چینلوں کو انٹر ویو دیے ہیں۔ صدر کا موقف ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سزا دینے اور مستقبل میں ان کے استعمال سے روکنے کے لیے ایک محدود فوجی کارروائی کی ضرورت ہے۔
صدر کا کہنا ہے کہ ’میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف موجود روایت قائم رہے۔‘
انہوں نے کہا ’یہ ہماری قومی سلامتی کے لیے مفید ہے۔ اگر ہم حملے کیے بغیر یہ حاصل کر سکتے ہیں تو میں اس راستے کو ترجیح دوں گا۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ اگر بشار الاسد اپنے کیمیائی ہتھیاروں کا کنٹرول چھوڑ دیتے ہیں تو کیا وہ شام پر حملے کا منصوبہ روک دیں گے، صدر کا کہنا تھا ’بالکل، اگر واقعی ایسا ہوا۔‘
دوسری طرف امریکی عوام شام پر حملے کے خلاف ہیں۔ خبر رساں ادارے اے پی کے عوامی جائزوں کے مطابق پانچ میں سے صرف ایک امریکی شہری کا خیال ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر شام کے خلاف کارروائی نہ کرنے سے دوسری حکومتوں کو شہ ملے گی۔
اس سے پہلے روس نے شام سے کہا تھا کہ امریکی حملے سے بچنے کے لیے وہ اپنے کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی کنٹرول میں دے اور بعد میں انھیں تباہ کروا دے۔
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کے مطابق انھوں نے یہ تجویز شامی وزیرِ خارجہ ولید معلم سے ملاقات میں دی تھی جس کا انھوں نے خیر مقدم کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ولید معلم کو مشورہ دیا تھا کہ شام مکمل طور پر عالمی کنونشن برائے کیمیائی ہتھیار میں شمولیت اختیار کر لے۔

اس سے پہلے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے خبردار کیا تھا کہ شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال پر فوجی کارروائی نہ کرنے میں خطرات کارروائی کرنے کے خطرات سے زیادہ ہیں۔
ایک نیوز کانفرنس میں اس سوال کے جواب میں کہ حملے سے بچنے کے لیے بشار الاسد کیا کر سکتے ہیں، جان کیری کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کیمیائی ہتھیاروں کا مکمل ذخیرہ ایک ہفتے میں جمع کروا دیں۔
بعد میں امریکی حکام نے وضاحت کی کہ جان کیری ایک سنجیدہ پیشکش کی بجائے فرضی صورتحال پر بات کر رہے تھے۔
یاد رہے کہ شامی صدر بشار الاسد نے ایک امریکی ٹی وی کو بتایا ہے کہ امریکہ کے پاس اس بات کا ’کوئی ثبوت‘ نہیں ہے کہ شام نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔
امریکہ کا دعویٰ ہے کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت نے اکیس اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کے ایک حملے میں ایک ہزار چار سو انیس افراد کو ہلاک کیا ہے جس سے شام انکار کرتا ہے۔







