یمنی وزیرِاعظم قاتلانہ حملے میں بچ گئے

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں حکام نے کہا ہے کہ وزیرِاعظم محمد سالم باسندوہ قاتلانہ حملے میں بچ گئے۔
ان کے ایک مشیر نے کہا کہ ایک گاڑی میں سوار حملہ آوروں نے وزیرِاعظم کے کاروان پر اس وقت فائر کھول دیا جب وہ اپنے دفتر سے گھر واپس جا رہے تھے۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ یہ پہلی دفعہ ہے کہ باسندوہ کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم ان کے کابینہ کے ارکان پر حملے کیے جاتے رہے ہیں۔
یمنی حکومت القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے ساتھ نبردآزما ہے۔
جمعے کی رات کو مشتبہ عسکریت پسندوں نے جنوبی صوبے لبوس میں ایک سینیئر انٹیلی جنس افسر کو ہلاک کر دیا تھا۔
باسندوہ نومبر 2011 میں وزیرِاعظم منتخب ہونے سے قبل حزبِ مخالف کے رکن تھے۔ وہ اس وقت نئی حکومت کا حصہ بنے تھے جب صدر علی عبداللہ صالح اقتدار سے دست بردار ہو گئے۔
ان کے ایک ساتھی علی السراری نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز اس حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی کو تلاش کر رہی ہیں۔
اس سے قبل اگست کے اوائل میں امریکہ اور دوسرے کئی مغربی ممالک نے القاعدہ کی جانب سے حملے کے خطرے کے پیشِ نظر صنعاء میں عارضی طور پر اپنے سفارت خانے بند کر دیے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







