صنعا: برطانوی سفارتخانہ کھول دیا گیا

یمن کے دارالحکومت صنعا میں برطانوی سفارتخانہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے دو ہفتے تک بند رہنے کے بعد کھول دیا گیا ہے۔
صنعا میں موجود تمام سفارت اہلکاروں کو اس وقت واپس بلا لیا گیا تھا جب القاعدہ کے اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو پگڑی گئی جس میں ایک سفارت خانے پر حملے کا ذکر تھا۔
امریکہ نے بھی مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور ایشیا کے کئی ممالک میں اپنے سفارت خانے اور قونصلیٹ کچھ عرصہ بند رکھے تھے۔
یمن نے برطانوی سفارتخانے کے دوبارہ کھولے جانے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے تاہم اس فیصلے کی وجوہات نہیں بتائی گئی۔
القاعدہ کے سربراہ ایمن الزہواری اور تنظیم کے اہم رکن ناصر الوحیشی کے درمیان ہونے والی گفتگو میں کسی ایک سفارتخانے پر حملے پر بات کی گئی جس میں 11 ستمبر کے حملے کے بعد سب سے بڑے حملے کا ذکر تھا۔ اس گفتگو کے پکڑے جانے کے بعد امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک نے یمن اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک میں اپنے سفارت خانوں پر خصوصی حفاظتی انتظامات کیے۔
صنعا میں سینکڑوں بکتر بند گاڑیوں کو بھی تعینات کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صنعا میں بی بی سی کے نامہ نگار عبداللہ غوریب نے بتایا تھا کہ اس وقت سکیورٹی ذرائع کے مطابق شہر میں القاعدہ کے اراکین کی ایک بڑی تعداد پہنچ گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ اس حملے میں مغربی ممالک کے کسی سفارتخانے اور یمنی فوج کے صدر دفاتر کو نشانے بنایا جانا تھا اور اس میں خودکش حملہ آوروں کا استعمال کیا جانا تھا۔
بی بی سی کے رامی رحہایم کا کہنا ہے کہ سفارتخانے کا دوبارہ کھولے جانے کا مطلب ہے کہ شاید یہ خطرہ ٹل گیا ہے تاہم سکیورٹی صورتحال پر غور کیا جا رہا ہے اور میڈیا کو تھوڑی ہی معلومات دی گئیں ہیں۔
برطانوی وزارتِ خارجہ نے اپنے تمام شہریوں کو یمن سفر کرنے کے خلاف تنبیہ کی ہے۔







