القاعدہ سے خطرہ، امریکی شہریوں کو سفری وارننگ

امریکی حکومت نے القاعدہ کے حملوں کے خدشے کے پیش نظر عالمی سطح پر سفری وارننگ جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ بیرون ملک سفر کے دوران ہوشیار رہیں۔
تاہم ان حملوں کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔
جمعہ کو امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ممکنہ حملوں کا زیادہ خطرہ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں ہے۔
ادھر برطانیہ نے بھی کہا ہے کہ وہ بھی حفظ ما تقدم کے طور پر سنیچر اور اتوار کو یمن میں اپنے سفارتخانے بند رکھے گا۔
اس سے پہلے جمعرات کو امریکی حکام نے اعلان کیا تھا کہ آئندہ اتوار کو دنیا کے مختلف حصوں میں متعدد امریکی سفارتخانے لاحق خطرات کے نتیجے میں بند رہیں گے۔
<link type="page"><caption> امریکی عوام کو دھوکے میں نہیں رکھا:ہلیری</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/01/130124_clinton_defends_benghazi_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’بن غازی قونصلیٹ کی سکیورٹی ناکافی تھی‘ </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/12/121219_clinton_accepts_recommendation_rk.shtml" platform="highweb"/></link>
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام کے مطابق سفری وراننگ کا اطلاق رواں ماہ کی اکتیس تاریخ تک رہے گا اور امریکی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ بیرون ملک سفر کے دوران ہوشیار رہیں۔
محکمۂ خارجہ کے بیان کے مطابق’موجود معلومات سے معلوم ہوتا ہے کہ القاعدہ اور اس سے منسلک تنظیمیں خطے اور اس کے باہر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ آج سے لے کر اکتیس اگست تک یہ حملے کرنے کی کوشش کریں۔‘
وارننگ کے مطابق زیادہ امکان ہے کہ ان حملوں میں نرانسپورٹ نظام اور دیگر سیاحتی مقامات پر سیاحوں کو نشانہ بنایا جائے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان میں حکمراں جماعت ڈیموکریٹ کی رہنما نینسی پلوسی نے کہا ہے کہ کانگریس رہنماؤں کو اس خطرے کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا’ اس خطرے کی سنجیدگی کے بارے میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے‘۔
ایوانِ نمائندگان کے کمیٹی برائے انٹیلی جنس کے اعلیٰ رکن ڈچ روپرز برگ کے مطابق’خطرہ انٹرنیٹ پر شدت پسندوں کی معمول کی’گپ شپ‘ کے نتیجے میں تجویز نہیں کیا گیا‘۔
انہوں نے امریکی خبررساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا’ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم امریکی شہریوں کی زندگیوں کا تحفظ کریں۔‘
ایک سینیئر امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے پر این بی سی ٹیلی ویژن کو بتایا ہے’ہو سکتا ہے کہ خطرہ مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان سے متعلق ہو اور یہ ماہ ایک ہفتے بعد ختم ہو رہا ہے‘۔
اس سے پہلے جمعرات کو سفارت خانے بند کرنے سے متعلق امریکی دفترِ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ اعلان ان تمام سفارتخانوں پر لاگو ہوتا ہے جو کہ عام طور پر اتوار کو کھلے ہوتے ہیں۔
مسلم دنیا کے کئی ممالک میں اتوار کو کام کیا جاتا ہے۔ دیگر ممالک میں امریکی سفارتی دفاتر اتوار کے روز ویسے ہی بند رہتے ہیں۔
گذشتہ سال گیارہ ستبمر کے روز لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر ہوئے حملے میں امریکی سفیر سمیت چار امریکی شہری ہلاک ہوگئے تھے۔
امریکہ کے سفارتخانوں کو اکثر مظاہروں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
امریکی چینل سی بی ایس نیوز کے مطابق بند کیے جانے والے سفارتی دفاتر میں بحرین، اسرائیل، اردن، کویت، لیبیا، عمان، قطر، سعودی عرب، یمن، افغانستان اور بنگلہ دیش شامل ہے۔







