’شام کیمیائی حملے کی تحقیقات کی اجازت دے‘

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے شام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دارالحکومت دمشق کے قریب مبینہ کیمیائی حملے کی فوری تحقیقات کی اجازت دے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ بان کی مون تخفیفِ اسلحہ کے سربراہ اینجیلا کین کو اس واقعے کی تحقیق کے لیے دمشق بھیج رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے شام سے کہا ہے کہ وہ ادارے کے شام میں پہلے سے موجود معائنہ کاروں کو اس واقعے کی تحقیقات کی اجازت دے۔
فرانس کے وزیرِخارجہ نے کہا ہے کہ اگر شام کی جانب سے عام شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام ثابت ہو جاتا ہے تو اس کا ’طاقت سے جواب‘ دینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
لوراں فبیوس کا یہ بیان اس کے ایک دن بعد آیا ہے جب شامی حزبِ اختلاف نے کہا تھا دمشق کے علاقے غوطہ میں کیمیائی حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوامِ متحدہ کی ٹیم اتوار کو دمشق پہنچی تھی وہ اس حملے کے مقام سے 15 کلومیٹر دور ٹھہری ہوئی ہے، لیکن اس کے پاس صرف تین مقامات پر جانے کی اجازت ہے، جن میں خان العسل کا قصبہ بھی شامل ہے جہاں مارچ میں ایک مبینہ کیمیائی حملے میں 26 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
شامی حکومت نے حالیہ الزامات کو ’غیرمنطقی اور من گھڑت‘ قرار دیا ہے۔ شامی فوج کا کہنا ہے کہ حزبِ اختلاف نے یہ دعویٰ حالیہ شکستوں سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق غوطہ میں جمعرات کو گولہ باری کا سلسلہ جاری رہا۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے ایک ترجمان نے جمعرات کو کہا کہ سیکرٹری جنرل یہ سمجھتے ہیں کہ ان حملوں کی ’بلاتاخیر تحقیقات ہونی چاہیے‘۔
اس سے قبل فبیوس نے فرانسیسی ٹی وی چینل بی ایف ایم کو بتایا ’اگر کیمیائی ہتھیاروں کے الزام کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس کا لازماً جواب دینا چاہیے، ایسا جواب جس میں طاقت کا استعمال شامل ہو سکتا ہے‘۔
انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ آیا وہ فوجی کارروائی کی بات کر رہے ہیں، لیکن انھوں نے شام کی اندر فوجی تعینات کرنے کے خیال کو رد نہیں کیا۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ ابھی اس بات کو حتمی طور پر ثابت کرنا باقی ہے کہ دمشق میں کیا ہوا، اور کہا کہ وہ فوری طور پر معلومات اکٹھی کر رہا ہے۔
محکمے کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ اگر صدر بشارالاسد کی حکومت کیمیائی حملے میں ملوث پائی جاتی ہے تو یہ ’انتہائی سنگین اور وحشیانہ اقدام ہو گا‘۔
امریکیصدر براک اوباما نے گذشتہ برس خبردار کیا تھا کہ شام کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ’سرخ لکیر‘ کو عبور کرنے کے مترادف ہو گا۔
ترک وزیرِ خارجہ احمد داؤد اوغلو نے فوری ردِعمل کی ضرورت پر زور دیا ہے اور اقوامِ متحدہ کی طرف سے کچھ نہ کرنے پر تنقید کی ہے۔







