بشار الاسد کے قافلے پر حملے کی تردید

شام کی حکومت کے ترجمان نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے کہ صدر بشار الاسد کے قافلے پر باغیوں نےحملہ کیا تھا۔
صدر بشار الاسد نے عید الفطر کی نماز اناس بن مالک کی مسجد میں ادا کی۔
شام کے وزیر اطلاعات اومران زوبی نے کہا ہے کہ صدر بشار الاسد کے قافلے پر حملوں کی خبروں میں ذرہ بھی صداقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ باغی ایسا خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔
شام کی حکومتی افواج نے حالیہ دنوں میں باغیوں کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ صدر بشار الاسد ایک ہفتے میں تیسری بار پبلک میں نظر آئے ہیں۔
شام کے باغیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں دمشق کے مالکی علاقے میں صدر بشار الاسد کے قافلے پر حملہ کیا ہے۔ صدر بشار الاسد اسی علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔
سرکاری ٹی وی پر صدر بشار الاسد کو گرینڈ مفتی کی امامت میں عید الفطر کی نماز ادا کرتے دیکھایا گیا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ ٹی وی فٹیج پہلے سے ریکارڈ کر لی گئی تھی یا واقعی صدر بشار الاسد عید کی نماز کے وقت ہی مسجد میں آئے۔
بدھ کےروز حکومتی افواج نے باغیوں پر ایک کامیاب حملہ کیا تھا جس میں ساٹھ باغی ہلاک ہوگئے۔ باغیوں نےبھی اس حملے کی تصدیق کی تھی۔
رواں ہفتے صدر بشار الاسد نے اپنی فوج کے نام ایک پیغام میں کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ وہ باغیوں پر فتح حاصل کر لیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ’ اگر ہم شام میں اس فتح کے بارے میں پُراعتماد نہ ہوتے تو ہم میں گزشتہ دو سال سے جاری جارحیت کا سامنا کرنے کا عزم نہ ہوتا‘۔
اس پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے آپ پر یقین ہے اور آپ کی قابلیت پر اعتماد ہے کہ آپ اس قومی مشن کو ضرور پورا کریں گے جو آپ کو سونپا گیا ہے۔‘
’آپ نے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔ حالیہ تاریخ کی سب سے زیادہ بہیمانہ اور سفاک جنگ میں آپ نے اپنی مزاحمت سے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔‘
اقوام متحدہ کے مطابق شام میں دو سال سے زیادہ عرصے سے جاری خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں افراد ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔
بدھ کو اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ شام کی حکومت اس کے معائنہ کاروں کو ان مقامات پر جانے کی اجازت دینے پر رضامند ہو گئی ہے جہاں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا تھا۔







