کیمیائی ہتھیار، اقوام متحدہ کو معائنے کی اجازت

شام میں حکومت اور باغی ایک دوسرے پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات لگاتے رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنشام میں حکومت اور باغی ایک دوسرے پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات لگاتے رہے ہیں

ااقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کی حکومت اس کے معائنہ کاروں کو ان مقامات پر جانے کی اجازت دینے پر رضامند ہو گئی ہے جہاں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان گی مون کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے انسپکٹرر’ جتنی جد ممکن ہو سکے گا‘جائیں گے۔

اقوام متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے چیف انسپکٹر ایکے سیلسٹورم نے گزشتہ ہفتے شامی حکومت سے ان مقامات تک جانے کی اجازت دینے کے حوالے سے بات چیت کی تھی جہاں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ہوا تھا۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ کے سیکرٹری بان گی مون نے شامی حکومت سے مطالبہ تھا کہ اٹھائیس ماہ کے تنازعے کے دوران جس جگہ پر بھی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات سامنے آئے ہیں، وہاں تحقیقات کرنے کی اجازت دی جائے۔

تاہم اب تک شامی حکومت کا اصرار ہے کہ اقوام متحدہ کے معائنہ کار صرف خان الاصل تک محدود رہیں۔

توقع ہے کہ اقوام متحدہ کے معائنہ کار شام میں صوبہ حلب کے علاقے خان الاصل سمیت تین مقامات پر جائیں گے۔

اس شہر میں رواں سال مارچ میں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے کم از کم ستائیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

خان الاصل میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات نے عالمی توجہ حاصل کی تھی اور فریقین نے ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات ایک دوسرے پر عائد کیے تھے۔

یہ شہر مارچ میں حکومت کے کنٹرول میں تھا لیکن بائیس جولائی کو اس پر باغیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔

اقوام متحدہ کے معائنہ کار اس کے علاوہ متوقع طور پر دمشق اور حمص کے مضافاتی مقامات کا بھی دورہ کریں گے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اسے شام میں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تیرہ اطلاعات ملی ہیں۔

رواں سال مارچ میں برطانیہ اور فرانس نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خطوط لکھے تھے جس میں خان الاصل سمیت متعدد مقامات پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں شواہد فراہم کیے تھے۔ ان شواہد میں عینی شاہدین کے بیانات اور مٹی کے نمونے بھی شامل تھے۔

اس کے بعد جون میں امریکی حکومت نے کہا تھا کہ شام میں حکومت نے اپنے مخالفین کے خلاف اعصاب شکن گیس سارین سمیت کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں اور ان واقعات میں 100 سے 150 افراد مارے گئے۔ امریکہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ شامی باغیوں کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی قابلِ بھروسہ ثبوت نہیں مل سکا ہے۔

دوسری جانب گزشتہ ماہ جولائی میں روس نے کہا تھا کہ مختلف تحقیقات میں ایسے شواہد ملے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ شامی باغیوں نے خان الاصل میں کیمیائی سارن گیس کا استعمال کیا۔

اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے مطابق معائنہ کار اپنی تحقیقات میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو تو ثابت کر سکتے ہیں مگر اس بارے میں فیصلہ نہیں کر سکتے کہ یہ ہتھیار کس کے حکم پر استعمال ہوئے۔

اندازہ ہے کہ شام کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں، اور حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی برادری میں اس ذخیرے کے تحفظ کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔