امریکہ گھٹیا حربوں پر اتر آیا ہے: شام

شام میں حلب شہر سے شدید جھڑپوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں
،تصویر کا کیپشنشام میں حلب شہر سے شدید جھڑپوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں

شامی حکومت نے امریکہ کی جانب سے باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام کو ’جھوٹ کا ایک کارواں‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

امریکہ نے شام پر یہ الزام لگاتے ہوئے باغیوں کو ’مختلف نوعیت کی فوجی امداد‘ دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

ادھر شامی باغیوں کے ایک رہنما سلیم ادریس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایک انتہائی اہم قدم‘ ہے۔

تاہم شام کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ نے کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں ’من گھڑت معلومات‘ کو اس قدم کے جواز کے طور پر استعمال کیا ہے۔

وزارت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ صدر اوباما کے باغیوں کو مسلح کرنے کے فیصلے کے جواز کے طور پر ’گھٹیا حربوں‘ پر اتر آیا ہے۔

اس سے قبل وائٹ ہاوس کے ترجمان بین رہوڈز نے کہا تھا کہ صدر اوباما نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب انتظامیہ اس نتیجے پر پہنچی کہ شام کے صدر بشارالاسد کی حامی حکومتی افواج نے باغیوں کے خلاف ’چھوٹے پیمانے پر‘ کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

ترجمان نے فوجی امداد کے بارے میں تفصیلات نہیں دیں اور صرف یہ کہا کہ اس امداد کا پیمانہ اور دائرۂ کار ماضی میں فراہم کی گئی امداد سے مختلف ہوگا۔‘

تاہم نیویارک ٹائمز نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ باغیوں کو چھوٹے ہتھیار اور ٹینک شکن ہتھیار فراہم کیے جائیں گے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کر کے آخری حد بھی پار کر لی ہے اور اب اوباما انتظامیہ کانگریس سے امریکی ردعمل کے بارے میں مشاورت کرے گی۔

شامی باغیوں نے امریکی فیصلے کو انتہائی اہم قدم قرار دیا ہے
،تصویر کا کیپشنشامی باغیوں نے امریکی فیصلے کو انتہائی اہم قدم قرار دیا ہے

قومی سلامتی کے معاملات پر امریکی صدر براک اوباما کے نائب مشیر بین رہوڈز نے جمعرات کو صحافیوں کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ اندازوں کے مطابق اعصاب شکن گیس سارین سمیت کیمیائی ہتھیاروں کے ان حملوں میں ایک سو سے ڈیڑھ سو افراد مارے گئے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ کو شامی باغیوں کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی قابلِ بھروسہ ثبوت نہیں مل سکا ہے۔

امریکی صدارت کے سابق امیدوار سینیٹر جان مکین اور ان کی ری پبلکن ساتھی سینیٹر لنڈسے گراہم نے امریکی صدر پر زور دیا ہے کہ وہ شامی حزبِ اختلاف کی حمایت میں فوری اضافہ کر کے شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا جواب دیں۔

ان دونوں سینیٹروں کا کہنا ہے کہ شامی باغیوں کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرنے کا فیصلہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے براک اوباما سے یہ بھی اپیل کی وہ شامی فضائیہ کے خلاف کارروائی کے لیے عالمی اتحاد کی تشکیل کے لیے کوشش کریں۔

خیال رہے کہ فرانس اور برطانیہ کی جانب سے بھی یہ یقین ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ شامی حکومت اپنے مخالفین کے خلاف یہ ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ اس سے قبل اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں بھی کہا گیا تھا کہ ’قابلِ یقین شواہد‘ ملے ہیں کہ شام میں حکومتی فورسز نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔’

شامی حکومت ملک میں دو سال سے زیادہ عرصے سے جاری اس تنازع میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام کو مسترد کرتی آئی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق اب تک 93 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔