باغیوں کو مختلف نوعیت کی امداد دینے کا فیصلہ: امریکہ

امریکی صدر اس بارے میں واضح ہیں کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال امریکہ کے لیے آخری حد ہے: بین رہوڈز
،تصویر کا کیپشنامریکی صدر اس بارے میں واضح ہیں کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال امریکہ کے لیے آخری حد ہے: بین رہوڈز

وائٹ ہاوس نے کہا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے شام میں باغیوں کو ’مختلف نوعیت کی فوجی امداد‘ دینے کا اعلان کیا ہے۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان بین رہوڈز نے کہا کہ صدر اوباما نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب انتظامیہ اس نتیجے پر پہنچی کہ شام کے صدر بشارالاسد کی حامی حکومتی افواج نے باغیوں کے خلاف ’چھوٹے پیمانے پر‘ کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

ترجمان نے فوجی امداد کے بارے میں تفصیلات نہیں دیں اور صرف یہ کہا کہ ’اس سے قبل دی جانے والی امداد سے مختلف نوعیت کی ہو گی‘۔

تاہم نیو یارک ٹائمز نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ باغیوں کو چھوٹے ہتھیار اور ٹینک شکن ہتھیار فراہم کیے جائیں گے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کر کے آخری حد بھی پار کر لی ہے اور اب اوباما انتظامیہ کانگریس سے امریکی ردعمل کے بارے میں مشاورت کرے گی۔

قومی سلامتی کے معاملات پر امریکی صدر براک اوباما کے نائب مشیر بین رہوڈز نے جمعرات کو صحافیوں کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ اندازوں کے مطابق اعصاب شکن گیس سارین سمیت کیمیائی ہتھیاروں کے ان حملوں میں ایک سو سے ڈیڑھ سو افراد مارے گئے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ کو شامی باغیوں کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی قابلِ بھروسہ ثبوت نہیں مل سکا ہے اور امریکی صدر نے شام میں باغیوں کی سپریم ملٹری کونسل کی امداد میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مدد میں ’عسکری مدد‘ بھی شامل ہوگی۔

تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا اور صرف یہ کہا کہ ’اس امداد کا پیمانہ اور دائرۂ کار ماضی میں فراہم کی گئی امداد سے مختلف ہوگا۔‘

بین رہوڈز نے بیان میں یہ بھی کہا کہ ’صدر اس بارے میں واضح ہیں کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال یا دہشتگردوں کو ان کی منتقلی امریکہ کے لیے آخری حد ہے۔‘

ان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارے خفیہ ذرائع نے اب پراعتماد انداز میں یہ تجزیہ کیا ہے کہ اسد حکومت نے شام میں مختصر پیمانے پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے۔ صدر کہہ چکے ہیں کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ان کے حساب کتاب کو تبدیل کر دے گا اور اس نے ایسا ہی کیا ہے۔‘

بین رہوڈز کے مطابق امریکی خفیہ ادارے میدانِ جنگ سے ملنے والی اطلاعات، کیمیائی ہتھیاروں کے متاثرین کی جسمانی علامات اور ان سے حاصل کیے گئے نمونوں کے تجربہ گاہ میں تجزیے کے بعد ہی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق شام کے تنازع میں اب تک 93 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں
،تصویر کا کیپشناقوامِ متحدہ کے مطابق شام کے تنازع میں اب تک 93 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں

ادھر امریکی صدارت کے سابق امیدوار سینیٹر جان مکین اور ان کی ری پبلکن ساتھی سینیٹر لنڈسے گراہم نے امریکی صدر پر زور دیا ہے کہ وہ شامی حزبِ اختلاف کی حمایت میں فوری اضافہ کر کے شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا جواب دیں۔

ان دونوں سینیٹروں کا کہنا ہے کہ شامی باغیوں کو اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرنے کا فیصلہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے براک اوباما سے یہ بھی اپیل کی وہ شامی فضائیہ کے خلاف کارروائی کے لیے عالمی اتحاد کی تشکیل کے لیے کوشش کریں۔

خیال رہے کہ فرانس اور برطانیہ کی جانب سے بھی یہ یقین ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ شامی حکومت اپنے مخالفین کے خلاف یہ ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فیبیوس نے رواں ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ پیرس میں کیے گئے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ شام میں کئی بار اعصاب شکن گیس سارین استعمال کی گئی ہے اور جنہوں نے یہ ہتھیار استعمال کیے انہیں سزا ملنی چاہیے۔

سارین ایک بے رنگ اور بے بو گیس ہے جس کا استعمال کئی ممالک کی جانب سے ممنوع ہے۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں بھی کہا گیا تھا کہ ’قابلِ یقین شواہد‘ ملے ہیں کہ شام میں حکومتی فورسز نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔’

شامی حکومت ملک میں دو سال سے زیادہ عرصے سے جاری اس تنازع میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام کو مسترد کرتی آئی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق اب تک 93 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔