اقوامِ متحدہ کے معائنہ کار شام جائیں گے

شام
،تصویر کا کیپشنرواں سال مارچ میں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے کم از کم ستائیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کے معائنہ کار جلد ہی شام کے لیے روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کی تحقیقات کریں گے۔

دمشق کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت اقوامِ متحدہ کی ٹیم دو ہفتوں کے دوران تین مقامات کا دورہ کرے گی جن میں ملک کا وہ شمالی قضبہ بھی شامل ہے جہاں کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کے الزامات ہیں۔

خان الاصل میں رواں سال مارچ میں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے کم از کم ستائیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

خان الاصل میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات نے عالمی توجہ حاصل کی تھی اور فریقین نے ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات ایک دوسرے پر عائد کیے تھے۔

یہ شہر مارچ میں حکومت کے کنٹرول میں تھا لیکن بائیس جولائی کو اس پر باغیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔

شام کی حکومت کے ساتھ اختلافات کے سبب اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کا یہ دورہ تاخیر کا شکار ہوا۔

تاہم 31 جولائی کو شام کی حکومت نے اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کے دورے کی اجازت دے دی۔

بدھ کو اقوامِ متحدہ نے بتایا کہ اس کی ٹیم نے اپنے دورے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔اقوامِ متحدہ کے سربارہ بان کی مون کے ترجمان نے بتایا کہ شام کی حکومت نے اس مشن کے تحفظ اور تعاون پر اتفاق کر لیا ہے۔

اقوام متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے چیف انسپکٹر ایکے سیلسٹورم کی قیادت میں یہ دس رکنی ٹیم صرف اس بات کی تحقیقات کرے گی کہ وہاں کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں یا نہیں اور اگر ہوئے ہیں تو وہ کونسے ہتھیار ہیں۔

تاہم یہ ٹیم یہ فیصلہ نہیں کرے گی کہ یہ ہتھیار کس نے استعمال کیے تھے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ دو ہفتے کے بعد اتفاقِ رائے سے اس دورے کی مدت میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

اندازہ ہے کہ شام کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں، اور حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی برادری میں اس ذخیرے کے تحفظ کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔