حضرت زینب کے مزار پر حملے کی مذمت

شام میں دو ہزار گيارہ سے ہی باغیوں کا گروپ بشار الاسد کی حکومت کے برسر پیکار ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق اس لڑائي میں اب تک تقریبا نوے ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشام میں دو ہزار گيارہ سے ہی باغیوں کا گروپ بشار الاسد کی حکومت کے برسر پیکار ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق اس لڑائي میں اب تک تقریبا نوے ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستان کی حکومت نے شام کے دارالحکومت دمشق میں بی بی زینب کے روضہ اور دیگر مقدس مقامات پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

حکومت پاکستان نے شام کی حکومت سے ملک کے تمام مقدس مقامات کی حفاظت کو یقینی بنانے کو کہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شام میں انیس جولائي کو صدر بشار الاسد سے بر سرپیکار باغیوں نے بی بی زینب کے مزار کو نشانہ بنایا تھا۔

پاکستان کی حکوت نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ’مقدس مقامات کی بے حرمتی کے رجحان سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرح پاکستانی مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اس طرح کی خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں جو فرقہ وارنہ کشدیگي کو بھی بڑھاوا دیتی ہیں۔‘

پاکستان کی حکومت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گيا ہے کہ شام میں تمام فریق عالمی انسانی قوانین کی پابندی کریں اور مقدس مقامات اور عبادت گاہوں کے تقدس کو برقرار رکھتے ہوئے عوام کے مشترکہ ورثے کی حفاظت میں مدد کریں۔

بیان کے مطابق پاکستان نے سیدہ زینب کے روضہ کی بے حرمتی کے سلسلے میں حکومت اور پاکستانی عوام کی تشویش سے آکاہ کرنے کے لیے اسلام آباد میں شام کے سفارت خانے کے حکام کو دفتر خارجہ طلب کیا گيا۔

شام میں دو ہزار گيارہ سے ہی باغیوں کا گروپ بشار الاسد کی حکومت کے برسر پیکار ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق اس لڑائي میں اب تک تقریبا نوے ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق باغی گروپ کے ساتھ بعض شدت پسند تنظیمیں بھی وابستہ ہوگئی ہیں جس پر عالمی برادری کو تشویش ہے۔ خبروں کے مطابق باغی گروپ کے حملے میں ہی سیدہ زینب کے روضہ کو نقصان پہنچا ہے۔

ادھر شیعہ گروپ حزب اللہ کے جنگجو شام کی حکومت کی طرف سے اس لڑائی میں شامل ہوگئے ہیں جس سے شام کا تنازعہ فرقہ ورارنہ رخ اختیار کرتا جارہا ہے۔