شام، حمص شہر پر سرکاری افواج کا شدید حملہ

شام میں باغیوں کے قبضے والے شہر حمص پر جمعہ کے دن سے ہی حملہ جاری ہے
،تصویر کا کیپشنشام میں باغیوں کے قبضے والے شہر حمص پر جمعہ کے دن سے ہی حملہ جاری ہے

شامی فضائی جنگی طیاروں اور زمینی فوج نے باغیوں کے قبضے والے شہر حمص پر حملہ کیا ہے۔

رضاکاروں کا کہنا ہے جنگی طیاروں، ٹینکوں نے حمص شہر کے خالدیا اور جرت الشیعہ کے ضلعوں پر حملوں کر دیا ہے۔

ایک رضاکار نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ شام میں شورش کی شروعات سے لے کر ابتک سنیچر کا دن ’حمص کے لیے سب سے پرتشدد دنوں میں سے ایک رہا‘۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کا رخ اب حکومت مخالف باغیوں کے خلاف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حمص کے قریب اور لبنان سرحد کے قریب جنگی اہمیت کے حامل شہر قصیر پر اس ماہ کے شروع میں دوبارہ قبضے کے بعد سے صدر بشار الاسد کی فوج نے مضافاتی گاؤں کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور باغیوں کے اہم مرکز حمص پر بھی حملہ کرنا شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب خبریں ہیں کہ باغیوں نے بھی جنوبی شہر دراع میں جاری لڑائی میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جمعہ کو باغیوں نے فوج کے ایک اہم اڈے پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جہاں سے وہ شہر کو جانے والی ایک اہم سڑک کے کنٹرول میں ہیں۔

رضاکار طارق بردخان نے اے پی کو بتایا کہ ’خالدیہ اور اس سے ملحق حمص کے قدیمی شہر پر مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے سے شیلنگ جاری ہے۔‘

انٹرنٹ پر ڈالی گئی غیر مصدقہ ویڈیوز میں وہاں دھویں کے غبار اٹھتے ہوئے دکھائے جا رہے ہیں جو کہ زبردست دھماکوں کا نتیجہ ہیں اور اس نے شہر کے بعض علاقوں کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔

17 لاکھ سے زیادہ شامی باشندے پڑوسی ملکوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں
،تصویر کا کیپشن17 لاکھ سے زیادہ شامی باشندے پڑوسی ملکوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں

شام کے ٹی وی کے مطابق فوج نے حمص کی لڑائی میں ’بڑی کامیابی‘ حاصل کی ہے اور خالدیہ ضلع میں ’بہت سے دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے‘۔

برطانیہ میں شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی حقوق انسانی کی تنظیم’ایس او ایچ آر‘ نے اپنے فیس بک صفحے پر اس لڑائی میں دو شہریوں کی ہلاکت کی بات کہی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ خالدیہ میں خالد ابن ولید مسجد کے پاس خونریز جنگ جاری ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اس مسجد میں آگ لگ گئی تھی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری جنگ میں ابھی تک 90 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 17 لاکھ سے زیادہ افراد پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو‌ئے ہیں۔