دمشق:’ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں سینکڑوں ہلاک‘

شامی حزبِ اختلاف نے الزام عائد کیا ہے کہ دمشق کے مضافات میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ مہلک کیمیائی ہتھیاروں سے لیس راکٹوں سے دمشق کے مضافاتی علاقے غوتہ پر بدھ کی صبح باغیوں پر حملے کیے گئے۔
سرکاری خبر رساں ادارے سانا کا کہنا ہے کہ یہ دعوے بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کی توجہ ہٹانا ہے۔ حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
رضاکاروں کے نیٹ ورک نے بھی سینکڑوں ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے تاہم ان دعوؤں کی تصدیق آزادانہ طور پر نہیں کی جا سکی۔
ویڈیو فوٹیج میں درجنوں لاشیں دکھائی گئی ہیں جن پر بظاہر زخموں کے نشان نہیں ہیں۔ ان میں چھوٹے بچے بھی شامل ہیں۔
ڈاکٹر غزوان بویدانی زخمیوں کا علاج کر رہے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بنیادی علامات میں سانس گھٹنا، منھ میں پانی آنا اور دھندلی نظر شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ہمارے اتنے زیادہ لوگوں کے علاج کی سہولت موجود نہیں ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ حملے اِن علاقوں سے باغی فورسز کو نکال باہر کرنے کی حکومت کی کوششوں کے تحت کیے گئے ہیں۔
یو ٹیوب پر ڈالی گئی ویڈیو میں مختلف کارکن ایک عارضی ہسپتال میں میں لوگوں کا علاج کر رہے ہیں۔
شامی حکومت نے اس ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد اس حملے کی تردید کی ہے۔
اس حملے کا الزام ایک ایسے وقت میں لگایا گیا ہے جب اقوامِ متحدہ کے معائنہ کار شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات کی تحقیقات کے لیے گزشتہ روز اتوار کو پہنچے ہیں۔
یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ معائنہ کار ان حالیہ الزامات کا جائزہ لیں گے یا نہیں۔
یہ معائنہ کار تین جگہوں کا دورہ کریں گے جہاں پر الزامات ہیں کہ کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔ ان جگہوں میں سے ایک جگہ شمالی شام کا قصبہ خان الاصل بھی ہے جہاں چھبیس افراد مار میں ہلاک ہوئے تھے۔
شامی حکومت اور باغی دونوں اس تنازعے کے دوران ایک دوسرے پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام عائد کرتے رہے ہیں، تاہم ابھی تک ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
شام کے بارے عام خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس اب تک بڑی غیر اعلانیہ مقدار میں کیمیائی ہتھیار ہیں جن میں سیرین گیس اور نرو ایجنٹ شامل ہیں۔







