تندولکر کی چالیسویں سنچری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ماسٹر بلاسٹر‘ سچن تندولکر دنیا کے پہلے کرکٹر بن گئے ہیں جنہوں نے 40 سنچریاں بنائی ہیں اور جس طرح لوگوں کو باراک اوباما کے امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر بننے کی خوشی ہوئی ہے اسی طرح کرکٹ کے متوالوں کو بھی تندولکر کی چالیسویں سنچری ضرور لبھائی ہو گی۔ پینتیس سالہ تندولکر نے انڈیا کے شہر ناگپور میں آسٹریلیا کے خلاف اپنا 154 واں ٹیسٹ کھیلتے ہوئے ہوئے یہ کارنامہ انجام دیا۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی وہ سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا ریکارڈ رکھتے ہیں لیکن ان کی چالیسویں سنچری سے کم از کم وہ لوگ ضرور حیران ہوں گے جو ان کو ’رائٹ آف‘ کر چکے ہیں، مطلب یہ کہ سمجھ رہے ہیں کہ تندولکر اور نہیں کھیل سکتے۔
تندولکر نے ابھی تک 154 ٹیسٹ میچوں میں 12،251 رنز بنائے ہیں۔ تندولکر بلاشبہ دنیائے کرکٹ کے چند عظیم بیٹسمینوں میں سے ایک ہیں۔ سن 202 میں کرکٹ کے ریکارڈز رکھنے والی کتاب وزڈن نے انہیں سر ڈونلڈ بریڈمین کے بعد دوسرا سب سے بڑا ٹیسٹ بیٹسمین اور سر ویوین رچرڈز کے بعد ایک روزہ میچوں کا دوسرا بڑا بیٹسمین قرار دیا تھا۔ سچن تندولکر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ دنیائے کرکٹ کے عظیم بیٹسمین سر ڈونلڈ بریڈمین نے اپنی سوانح عمری میں جو کرکٹ کی ایک ’ڈریم ٹیم‘ بنائی ہے اس میں صرف سچن تندولکر ہی ہیں آج کل کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں میں شامل ہیں، باقی سب سابقہ کھلاڑی ہیں۔ اس وقت ٹیسٹ کرکٹ میں صرف آسٹریلیا کے کپتان رکی پونٹنگ ہی ایسے کھلاڑی ہیں جو سنچریوں کے ریکارڈ میں سچن تندولکر کے قریب ہیں اور ابھی کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے 36 سنچریاں بنائی ہیں۔ ان کے علاوہ انڈیا کے سابق ٹیسٹ کرکٹر سنیل گواسکر 34، ویسٹ انڈیز کے برائن لارا 34 اور سٹیو وا 32 سنچریاں بنا چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ تندولکر نے برائن لارا کا سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ توڑ کر نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ برائن لارا نے گیارہ ہزار نو سو تریپن رن صرف ایک سو اکتیس میچوں میں بنائے تھے جبکہ تندولکر نے یہ ریکارڈ ایک سو باون میچ کھیل کر برابر کیا تھا۔
سچن انیس سو نواسی میں، سولہ برس کے تھے تو انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں قدم رکھا اور ایک سال بعد انہوں نے انگلینڈ کے خلاف اولڈ ٹریفورڈ کے میدان پر اپنی پہلی سنچری سکور کر کے بھارت کو شکست سے بچا لیا۔ آسٹریلیا میں پرتھ کے میدان پر جسے ایک تیز رفتار پچ تصور کیا جاتا ہے انہوں نے سنچری بنائی۔ اس کو آسٹریلیا کے خلاف آسٹریلیا میں اب تک بنائی جانے والی سنچریوں میں سب سے بہترین سنچری قرار دیا جاتا ہے۔ سچن تندولکر ان چند بیٹسمینوں میں سے ایک ہیں جو بولر کا اعتماد متزلزل کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ ان کے پاس ہر کتابی شاٹ موجود ہے لیکن موقع کی مناسبت سے غیرروایتی اسٹروکس سے بولر کو بے بسی کی تصویر بنانے کا فن بھی انہیں آتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ جب سچن تندولکر نے اپنے ہم وطن سنیل گواسکر کا چونتیس ٹیسٹ سنچریوں کا عالمی ریکارڈ برابر کیا تو سنیل گواسکر نے کہا تھا کہ’ گو کہ ہمارے پاس کوہ نور ہیرا نہیں مگر ہمارے پاس تندولکر تو ہے اور وہ کوہ نور سے زیادہ قابل قدر ہے‘۔ پینتیس سالہ تندولکر ممبئی میں پیدا ہوئے اور ممبئی کی جانب سے ہی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے ہیں۔ جب انہوں نے سنہ انیس سو نواسی میں محض سولہ سال کی عمر میں اپنے بین الاقوامی کرکٹ کیرئر کی پہلی سیریز میں پاکستان کے خلاف دو نصف سنچریاں سکور کیں تو اسی وقت کرکٹ کے پنڈتوں نے اس ہیرے کی چمک کو پہچان لیا تھا۔ تندولکر بھارت کی جانب سے سب سے زیادہ ایک روزہ میچ کھیلنے والے کھلاڑی ہیں۔ ان 417 میچوں میں تندولکر 44.33 کی اوسط سے 16361 رنز بنا چکے ہیں جن میں 42 سنچریاں اور 89 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ سچن تندولکر بیٹنگ ہی کے ماسٹر نہیں بلکہ وہ اپنی لیگ بریک گگلی سے حریف بیٹس مین کو بھی کافی ہراساں کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ٹیسٹ میچز میں بیالیس اور ایک روزہ میچز میں ایک سو چون وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔ سچن تندولکر نے بھارتی ٹیم کی کپتانی بھی کی لیکن بطور کپتان وہ اتنے کامیاب نہ ہو سکے اور کپتانی کے دباؤ کے سبب ان کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی تاہم یہ بوجھ اترتے ہی تندولکر پھر اپنے جوبن پر نظر آئے۔ |
اسی بارے میں تندولکر: بارہ ہزار رن کا ریکارڈ17 October, 2008 | کھیل سچن کی سنچری انڈیا کی جیت02 March, 2008 | کھیل تندولکر کیلیے’سر‘ کےخطاب کی سفارش22 January, 2008 | کھیل ریٹائر نہیں ہو رہا ہوں: تندولکر07 September, 2007 | کھیل ثانیہ کا تندولکر کو خراجِ تحسین30 June, 2007 | کھیل سچن ٹرائی سیریز، ایشیا کپ سے باہر29 May, 2008 | کھیل ریکارڈ ساز، سحر انگیز برائن لارا20 April, 2007 | کھیل فائنل میں5 وکٹیں، بہترین اختتام:میگرا28 April, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||