BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 June, 2007, 14:11 GMT 19:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ثانیہ کا تندولکر کو خراجِ تحسین

ثانیہ مرزا
’ہم بھی انسان ہيں، مشین نہیں۔ ہر دن ایک جیسا نہیں کھیل سکتے‘
ومبلڈن میں خواتین کے ڈبلز مقابلوں کے پہلے دور میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد ثانیہ مرزا نے اپنے رول ماڈل سچن تندلکر کو ون ڈے میچوں ميں پندرہ ہزار رن پورے کرنے پر مبارک باد دی ہے۔

ومبلڈن ميں سہار پیئر کے ساتھ مل کر ڈبلز مقابلوں کا پہلا دور جیتنے کے بعد جب وہ کورٹ سے باہر آئیں تب تک انڈیا بلفاسٹ میں جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے میچ جیت چکا تھا اور سچن تندلکر کے ایک روزہ میچوں میں پندرہ ہزار رنز پورے ہو چکے تھے۔

بی بی سی کی ہندی سروس سے بات کرتے ہوئے ثانیہ نے کہا ’سچن ایک بہترین کھلاڑی ہیں اور انہوں نے کھیل اور بھارت کو بہت کچھ دیا ہے۔ ان کے بارے میں جتنا بھی کہا جائے وہ کم ہے۔ میں انہیں اس کامیابی پر مبارک باد دینا چاہوں گی۔‘

خواتین کے ڈبلز میچ کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ ’ہم لوگ دو ڈھائی برس بعد ایک ساتھ کھیل رہے تھے اس لیے شروع میں تھوڑی پریشانی ہوئی لیکن بعد میں ہم اچھا کھیلے اور جیتے۔‘

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ روشنی کی وجہ سے بھی تھوڑی بہت پریشانی ہوئی تھی۔

خواتین کے سنگلز مقابلوں میں ہار کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’ہم بھی انسان ہيں مشین نہیں۔ ہر دن ایک جیسا نہیں کھیل سکتے اور کھلاڑیوں کی ریکنگ ميں بھی کافی فرق تھا۔ پہلے دور میں یاروسلاو شریدووا 80 ویں رینکنگ کی کھلاڑی تھیں جبکہ دوسرے دور ميں نادیہ پترووا دنیا ميں 9ویں رینکنگ کی کھلاڑی ہیں۔

ثانیہ ومبلڈن کے مکس ڈبلز مقابلوں میں مہیش بھوپتی کے ساتھ کھیل رہی ہیں۔ اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’بہت عرصے کے بعد کوئی انڈین لڑکا اور انڈین لڑکی ایک ساتھ کسی ’گرینڈ سلیم‘ میں جوڑی بنا کر کھیلیں گے۔ مجھے لگتا ہے کہ کافی مزا آئے گا۔‘

ٹورنامنٹ میں آگے کی تیاریوں کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا ’پچھلی بار ہمیں کوئی رینکنگ نہیں حاصل تھی لیکن اس مرتبہ ہے۔ اس سے میچ ڈرا ہونے پر فرق پڑتا ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ پچھلی مرتبہ وہ ڈبلز کے دوسرے اور مکس ڈبلز کے تیسرے دور تک پہنچیں تھی۔ لیکن اس سے آگے کبھی نہیں گئیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس مرتبہ وہ آگے جائيں گی۔

انڈيا میں ٹینس کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ثانیہ نے کہا کہ ’ملک میں ٹینس کا مستقبل کافی روشن ہے۔ پہلے لوگ پوچھتے تھے کہ لینڈر پیس اور مہیشن بھوپتی کے بعد کون؟ پھر میں آئی اور آگے اور آئيں گے۔ ہو سکتا ہے اس میں وقت لگے لیکن امید نہیں چھوڑنی چاہیے۔‘

سائنہثانیہ کے بعد سائنہ
ٹینس کے بعد حیدر آباد بیڈمنٹن میں بھی آگے
ثانیہ مرزا ثانیہ کی ہار
زخمی وینس ولیمز انڈیا کی ثانیہ مرزا پر بھاری
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد