ثانیہ کا تندولکر کو خراجِ تحسین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ومبلڈن میں خواتین کے ڈبلز مقابلوں کے پہلے دور میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد ثانیہ مرزا نے اپنے رول ماڈل سچن تندلکر کو ون ڈے میچوں ميں پندرہ ہزار رن پورے کرنے پر مبارک باد دی ہے۔ ومبلڈن ميں سہار پیئر کے ساتھ مل کر ڈبلز مقابلوں کا پہلا دور جیتنے کے بعد جب وہ کورٹ سے باہر آئیں تب تک انڈیا بلفاسٹ میں جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے میچ جیت چکا تھا اور سچن تندلکر کے ایک روزہ میچوں میں پندرہ ہزار رنز پورے ہو چکے تھے۔ بی بی سی کی ہندی سروس سے بات کرتے ہوئے ثانیہ نے کہا ’سچن ایک بہترین کھلاڑی ہیں اور انہوں نے کھیل اور بھارت کو بہت کچھ دیا ہے۔ ان کے بارے میں جتنا بھی کہا جائے وہ کم ہے۔ میں انہیں اس کامیابی پر مبارک باد دینا چاہوں گی۔‘ خواتین کے ڈبلز میچ کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ ’ہم لوگ دو ڈھائی برس بعد ایک ساتھ کھیل رہے تھے اس لیے شروع میں تھوڑی پریشانی ہوئی لیکن بعد میں ہم اچھا کھیلے اور جیتے۔‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ روشنی کی وجہ سے بھی تھوڑی بہت پریشانی ہوئی تھی۔ خواتین کے سنگلز مقابلوں میں ہار کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’ہم بھی انسان ہيں مشین نہیں۔ ہر دن ایک جیسا نہیں کھیل سکتے اور کھلاڑیوں کی ریکنگ ميں بھی کافی فرق تھا۔ پہلے دور میں یاروسلاو شریدووا 80 ویں رینکنگ کی کھلاڑی تھیں جبکہ دوسرے دور ميں نادیہ پترووا دنیا ميں 9ویں رینکنگ کی کھلاڑی ہیں۔ ثانیہ ومبلڈن کے مکس ڈبلز مقابلوں میں مہیش بھوپتی کے ساتھ کھیل رہی ہیں۔ اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’بہت عرصے کے بعد کوئی انڈین لڑکا اور انڈین لڑکی ایک ساتھ کسی ’گرینڈ سلیم‘ میں جوڑی بنا کر کھیلیں گے۔ مجھے لگتا ہے کہ کافی مزا آئے گا۔‘ ٹورنامنٹ میں آگے کی تیاریوں کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا ’پچھلی بار ہمیں کوئی رینکنگ نہیں حاصل تھی لیکن اس مرتبہ ہے۔ اس سے میچ ڈرا ہونے پر فرق پڑتا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلی مرتبہ وہ ڈبلز کے دوسرے اور مکس ڈبلز کے تیسرے دور تک پہنچیں تھی۔ لیکن اس سے آگے کبھی نہیں گئیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس مرتبہ وہ آگے جائيں گی۔ انڈيا میں ٹینس کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ثانیہ نے کہا کہ ’ملک میں ٹینس کا مستقبل کافی روشن ہے۔ پہلے لوگ پوچھتے تھے کہ لینڈر پیس اور مہیشن بھوپتی کے بعد کون؟ پھر میں آئی اور آگے اور آئيں گے۔ ہو سکتا ہے اس میں وقت لگے لیکن امید نہیں چھوڑنی چاہیے۔‘ |
اسی بارے میں ثانیہ مرزا پھر زخمی ہوگئیں03 March, 2007 | کھیل ثانیہ مرزا نے مارٹینا ہِنگز کو ہرا دیا28 September, 2006 | کھیل میرا کھیل بہتر ہوا ہے: ثانیہ مرزا16 September, 2006 | کھیل ثانیہ: رینکنگ میں کمی، ماڈلنگ متاثر13 September, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||