سچن کے بارہ ہزار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس شام کڑاکے کی سردی تھی۔ ہم ہماچل پردیش کے چھوٹے سے شہر اونا میں سڑک کے کنارے ایک چائے کے ڈھابے میں بیٹھے تھے۔ قریب ہی چودہ پندرہ سال کے دو لڑکے بھی بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ ہمیں بتایا گیا کہ ان میں سے ایک کو غور سے دیکھ لیں۔ یہ لڑکا پندرہ سال سے کم عمر کے کھلاڑیوں کے ایک میچ میں حصہ لینے وہاں آیا تھا۔ اس نوجوان کی بیٹنگ نے اس وقت بھی ماہرین کو اتنا متاثر کیا تھا کہ انہیں یقین ہوگیا تھا کہ مستقبل میں یہ نوجوان کرکٹر عظمت کی بلندیوں کو چھوئے گا۔ ہمیں مشورہ دیا گیا کہ :’اچھا ہوگا کہ جاکر اس لڑکے سے ہاتھ ملا لو۔ آنے والے برسوں میں تمہیں یہ لمحہ یاد رہے گا۔ اور تم لوگوں کو فخر کے ساتھ یہ بتا سکو گے کہ تم اس شخص کو اسوقت بھی جانتے تھے جب وہ گم نام تھا۔‘ اب جبکہ سچن تیندولکر نے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رن بنانے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے، اس شام کی یادیں پھر تازہ ہوگئی ہیں۔ اس بات کو بیس سال گزر چکے ہیں لیکن جب بھی تیندولکر کوئی عالمی ریکارڈ قائم کرتے ہیں، اس نوجوان کا معصوم چہرہ، شرارطی آنکھیں اور اس کے مزاج کی شائستگی آنکھوں کے سامنے تیرنے لگتی ہے۔
جب بھی آپ سچن کو دیکھیں تو یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ میڈیا کی مسلسل نظر اور اپنی اور اپنے مداحوں کی توقعات پر پورا اترنے کے زبردست دباؤ کے باوجود شخص نے کس شاندار اور شائستہ انداز سے اپنا کریر گزارا ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہےکہ سچن سوپر سٹار ہونے کے باوجود ہمیشہ زمین سے جڑے رہے اور دولت اور شہرت کو اپنے مقاصد کے حصول اور مزاج کی نرمی سے کھلواڑ نہیں کرنے دیا۔ لیکن وہ کیا خوبیاں ہیں جو سچن کو سچن بناتی ہیں؟ وہ خاموش طبع ہیں لیکن کبھی کبھی لوگ اسے تکبر سمجھ بیٹھتے ہیں۔ اس کے علاوہ بیٹنگ کے جنون نے کسی حد تک انہیں کرکٹ کے باہر کی دنیا سے الگ تھلگ رکھا ہے۔ انیس سو ستانوے میں وہ ویسٹ انڈیز میں ہندوستان کی کپتانی کر رہے تھے۔ نہ ان کی اپنی بیٹنگ ٹھیک چل رہی تھی اور نہ ٹیم کی مجموعی کارکردگی۔ اس پس منظر میں انہوں نے عندیہ دیا کہ وہ کس قدر دباؤ میں ہیں۔’ اگر مجھے صبح کو بیٹنگ کرنی ہو تو میں اب بھی رات کو سو نہیں پاتا۔‘ اور یہ اس زمانے کی بات ہے جب وہ آٹھ سال سے ٹیم میں تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ اس طرح کا پریشر ان کے لیے اچھا نہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’ میں اس بارے میں کچھ نہیں کرسکتا، میں ایسا ہی ہوں۔‘ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا کبھی وہ کرکٹ سے بور بھی ہوسکتے ہیں، سچن کا کہنا تھا کہ ’ میں اب بھی کبھی کبھی بور ہوجاتا ہوں لیکن ایسا شاذ ونادر ہی ہوتا ہے۔‘ اگر وہ ٹیم کی کپتانی کرتے رہتے تو شاید ان کا کریر پہلے ہی ختم ہوچکا ہوتا کیونکہ انہوں نے خود ہی اعتراف کیا تھا کہ کپتانی کا ان پر اتنا بوجھ تھا کہ وہ اپنی بیٹنگ پر توجہ نہیں دے پارہے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سچن کی رفلیکسز اب نسبتاً سست ہوگئی ہیں اور انہیں فٹنیس کے مسائل کا بھی سامنا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اب سچن میں وہ پہلے کی سی بات باقی نہیں لیکن بیس برس تک اعلی ترین سطح پر کرکٹ کھیلنا اور کرکٹ کی دنیا کے تقریباً سبھی ریکارڈ توڑنا، یہ ایسے کارنامے ہیں جو سچن جیاس غیر معمولی کھلاڑی ہی انجام دے سکتا تھا۔ | اسی بارے میں سچن تندولکر کا عالمی ریکارڈ10 December, 2005 | کھیل تندولکر:گاوسکر کا ریکارڈ برابر کر دیا11 December, 2004 | کھیل کپیل دیو کا ریکارڈ برابر02 December, 2004 | کھیل گنگولی کا ٹیسٹ کرکٹ کو’الوداع‘07 October, 2008 | کھیل گیل کی ٹرپل سنچری03 May, 2005 | کھیل انضمام پر کڑا وقت01 March, 2005 | کھیل اوول کرکٹ کی تاریخ کاسنہری باب06 September, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||