BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 October, 2008, 12:23 GMT 17:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گنگولی کا ٹیسٹ کرکٹ کو’الوداع‘
گنگولی
گنگولی کا شمار بھارتی کرکٹ ٹیم کے کامیاب کپتانوں میں ہوتا ہے

بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سوروگنگولی نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نو اکتوبر سے آسٹریلیا کے خلاف شروع ہونے والی ٹیسٹ سیریز ان کے کیریئر کی آخری ٹیسٹ سیریز ہوگی۔

بنگلور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےگنگولی نے کہا کہ ’آسٹریلیا کے خلاف کھیلی جانے والی یہ سیریز میری آخری ٹیسٹ سیریز ہوگی۔ میں ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر لیا ہے اور یہاں آنے سے پہلے میں نے اپنے فیصلے کے بارے میں ٹیم کو مطلع کر دیا ہے‘۔

گنگولی پریس کانفرنس میں ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد صحافیوں کو کسی سوال کا موقع دیے بغیر ہی اٹھ کر چلے گئے۔ تاہم ریٹائرمنٹ کے اعلان سے پہلے انہوں نے ٹیسٹ سیریز اور اپنے کیرئیر سے متعلق سوالات کے جواب دیے۔

بطور ٹیسٹ کپتان گنگولی کا ریکارڈ بہترین رہا ہے۔ ان کی کپتانی میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم نے انچاس میں سے اکیس ٹیسٹ میچ جیتے تھے اور انہی کی کپتانی میں بھارتی ٹیم 2003 کے کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچنے میں کامیاب رہی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی پریس کانفرنس میں جب ان سے ریٹائرمنٹ کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جب انہیں لگے گا کہ وہ اچھی کارکردگی نہیں دکھا رہے تو وہ ریٹائر ہوجائیں گے۔

چھتیس سالہ گنگولی نے آسٹریلیا سیریز سے قبل تک ایک سو نو ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں جن میں انہوں نے قریباً بیالیس کی اوسط سے چھ ہزار آٹھ سو اٹھاسی رن بنائے۔ گنگولی نے اپنے کیرئر میں اب تک پندرہ سنچریاں اور چونتیس نصف سنچریاں بھی بنائی ہیں۔

گنگولی کا شمار بھارتی کرکٹ کے بہترین اور کامیاب کپتانوں میں ہوتا ہے۔ ان کی کپتانی میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم نے انچاس میں سے اکیس ٹیسٹ میچ جیتے تھے اور انہی کی کپتانی میں بھارتی ٹیم 2003 کے کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچنے میں کامیاب رہی تھی۔

گنگولی کو ماضی میں بھارتی ٹیسٹ ٹیم سے ڈراپ کیے جانے کے بعد دسمبر سنہ 2006 میں ٹیم میں شامل کیا اور اس برس کے اوائل میں جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز تک انہوں نے ڈبل سنچری کی مدد سے پچاس رنز کی اوسط سے 1571 رنز بنائے۔ تاہم سری لنکا کے خلاف بھارت کی حالیہ سیریز میں وہ چھ اننگز میں صرف چھیانوے رن بنا پائے تھے۔

آسٹریلیا انڈیا ٹیسٹ سیریز کے لیے بھی ان کے ٹیم میں شامل کیے جانے کے امکانات کم ہی تھے۔ تاہم انہیں ٹیسٹ سیریز کے لیے بھارت کے مجوزہ پندرہ کھلاڑیوں میں شامل کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ حال میں ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں آئی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ یہ چاہتا ہے کہ ٹیم میں شامل گنگولی، تندولکر، ڈراوڈ کمبلے اور لکشمن جیسے سینیئر کھلاڑی اپنے الوداعی دوروں کا تعین کر کے بورڈ کو مطلع کر دیں تاکہ انہیں شایانِ شان طریقے سے رخصت کیا جا سکے۔ تاہم اس خبر پر بھارتی لیگ سپنر انیل کمبلے نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔

انیل کمبلےجیت کی امید
انیل کمبلے کا کہنا ہے کہ سیریز جیتنی ہے۔
 یوسفمحمد یوسف کا اعزاز
’ویون رچرڈز کا ریکارڈ توڑ کر بھی ان جیسا نہیں‘
ویسٹ انڈیز’کرکٹ زوال پذیر‘
ویسٹ انڈیز میں دوسرے کھیل مقبول: انتخاب عالم
بھارتی کرکٹ ٹیمہربھجن کی جگہ پوار
ہربھجن کی جگہ بھارتی ٹیم میں رمیش پوار
بھارتی کرکٹ تنازعہ
کوچ اور کپتان تنازعہ، پردیپ میگزین کا تجزیہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد