BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 September, 2005, 12:55 GMT 17:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کپتان کوچ تنازعہ، راستہ صرف ایک

کپتان اور کوچ کے درمیان تنازعہ کیا رخ لے گا؟
تبدیلی آگے بڑھنے اور ترقی کا ایک بہترین اصول سمجھا جاتا ہے لیکن اصول جب بھارت کی کرکٹ ٹیم کے کوچ اور کپتان کے درمیان جاری تنازعہ کے تناظر میں دیکھا جائے ، تو یہ دل و دماغ پر کوئی اچھا اثر نہیں چھوڑتا۔

بھارت میں بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ ٹیم کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے کیا کپتان کو تبدیل کیا جانا ضروری ہے یا نہیں۔

بھارتی کرکٹ کے حکام کو سورو گانگولی کی کپتانی کے متعلق فیصلہ کرنے کا جب موقع جب ہاتھ آیا تو انہوں نےاسے گنوا دیا۔ کرکٹ حکام نے یہ بغیر سوچے کہ کیا سورو گانگولی اپنی موجودہ فارم کے ساتھ بھارتی کرکٹ کے لیے مفید ہیں یا نہیں انہیں دوبارہ کپتان مقرر کر دیا۔

اس میں کسی کو شک و شبہ نہیں ہے کہ بھارتی ٹیم کے موجودہ کوچ گریک چیپل اپنے وقت کے عظیم کھلاڑی تھے لیکن بطور کوچ ان کو ابھی اپنے آپ کو منوانا ہے۔

بھارتی کرکٹ ٹیم کا کوچ مقرر ہونے سے پہلے گریگ چیپل نے پانچ سال تک ساؤتھ آسٹریلیا کی ٹیم کی کوچنگ کی تھی۔

گریگ چیپل کے پانچ سالہ دور میں ساؤتھ آسٹریلیا کی ٹیم کل چھ ٹیموں میں چوتھے نمبر پر آئی جبکہ ایک سال وہ بالکل ٹیبل سے غائب ہو گئی ۔

لیکن کسی قومی ٹیم کی کوچنگ کرنا ایک مختلف چیز ہے۔گریگ چیپل کے بھارتی کوچ مقرر ہوتے ہی کرکٹ ٹیم سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کر لی گئیں اور گریگ چیپل خود بھی اس کے ذمہ دار ہیں ۔

گریک چیپل کو کوچ مقرر کرتے وقت کسی نے شاید یہ نہیں سوچا تھا کہ اپنے وقت کا اتنا عظیم کھلاڑی بطور کوچ ٹیم کا مکمل کنٹرول چاہے گا کیونکہ اس نے اپنے آپ کو کوچ کے طور پر ابھی خود کومنوانا ہے۔

کوچ کا عہدہ سنھبالنے کے بعد جب چیپل نے ٹیم کے مسائل پر غور شروع کیا توان کو یقیناً کئی پریشان کن معاملات سامنے آئے ہوں گے۔

کرکٹ ٹیم کے مسائل تو سب کو ہی معلوم تھے لیکن لوگوں نے آنکھیں بند کر رکھیں تھیں۔ موجودہ کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کا گراف جب نیچے جانا شروع ہوا تو سابق کوچ جان رائٹ کی تمام کوششوں کے باوجود ٹیم دوبارہ جیتنے کے راستے پر گامزن نہ ہو سکی۔

سٹار بیٹسمین سچن تندولکر کا زخمی ہونا، کپتان گانگولی کا آؤٹ آف فارم اورکچھ کھلاڑیوں کا نامناسب رویہ کچھ ایسے مسائل ہیں جو کسی بھی ٹیم کو لاحق ہوں تو اس سے اچھی کارکردگی کی امید نہیں کی جا سکتی۔

چییپل نے یہ سب کچھ دیکھنے کے جب اقدامات لینے شروع کیے تو ٹیم کے کجھ کھلاڑی تو نالاں ہوئے لیکن کچھ کو اپنا کیرئیر خمتم ہوتاہوا نظر آیا۔

گریگ چیپل کے ٹیم کو تربیت دینے کے طریقے سخت ہیں اور ٹیم کے کئی کھلاڑی کوچ کے طریقوں سے ناراض ہیں۔ کوچ نے کھلاڑیوں کو اعتماد میں لے کر ساتھ چلنے کی بجائے ان کے ساتھ سکول کے بچوں کا برتاؤ شروع کر دیا۔

گریک چیپل کی دورہ زمبابوے سے بورڈ کے ایک اعلیٰ اہلکار کو لکھی گئی جانے والی ای میل نے حالات کو مزید خراب کر دیا۔

گریگ چیپل کی ای میل پڑھنے سے ذہن میں خیال ابھرتے ہیں، دو چیزیں سامنے آتی ہیں کہ یا تو وہ ایک انتہائی ایماندار شخص ہے یا وہ کسی قسم کا اختلاف برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔

اس ای میل میں گریگ چیپل کپتان کا ذکر انتہائی غیر مہذب انداز میں کرتے ہیں اور ای میل کے اختتام پر ایم بی ای (ممبر آف برٹش ایمپائر) الفاظ کے ساتھ سائن آف کرتے ہیں۔گریگ چیپل کے سائن آف سے ایک ڈکٹیٹر کی بو آتی ہے۔

اس وقت انڈین کرکٹ کے ساتھ جو کچھ ہو رہا وہ ان لوگوں کو تو اچھا لگ رہا ہو گا جن کے خیال میں اس وقت بھارتی کرکٹ ٹیم مکمل طور پر خراب ہو چکی ہے۔

لیکن اگر تھوڑی دیر توقف کریں اور کھلاڑیوں کے نقطہ نظر کو بھی سھمجنے کی کوشش کریں تواس میں شاید کوئی حرج بھی نہیں ہے۔

ایسے لوگ جو گریگ چیپل کے ٹیم دوبارہ بجال کرنے کے پلان سے متفق ہوں وہ بھی یقیناً ان کے طریقہ کار سے متفق نہیں ہوں گے۔ گریگ چیپل کے طریقہ کار سے ٹیم میں تفرقہ پھیلا ہے۔

گانگولی کا متوقع جانیشن ڈریوڈ بھی شاید یہ چاہے گا کہ ان حالات میں وہ کپتان نہ بنے۔

گریگ چیپل شاید یہ سوچ رکھتے ہوں کہ وہ بدانتظامی اور خوف پھیلا کر وہ ٹیم میں تنظیم پیدا کر سکیں گے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ یہ کرنے کے قابل ہیں ۔

اگر ریویو کیمٹی دونوں پارٹیوں کو سننے کے بعد اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ گریگ چیپل ٹیم میں تنظیم پیدا کرنے کے اہل ہیں تو پھر سامنے صرف ایک ہی راستہ سامنے رہ جاتا ہے وگرنہ بھارتی کرکٹ ٹیم اور زیادہ بدامنی کی طرف بڑھ جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد