ریکارڈ ساز، سحر انگیز برائن لارا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برائن لارا کو کئی حوالوں سے یاد رکھا جاسکتا ہے۔ وہ دنیائے کرکٹ کے ایک ایسے ریکارڈ ساز بیٹسمین ہیں جن کی عظمت کے گن سب ہی گاتے ہیں اور لارا کی غیرمعمولی صلاحیتوں سے کسی کو انکار نہیں۔ انہی صلاحیتوں کی بدولت انہیں سرڈان بریڈمین، سرلین ہٹن، سرگیری سوبرز، سنیل گاوسکر، بیری رچرڈز اور عصر حاضر کے سچن تندولکر کے ساتھ دنیائے کرکٹ کے چند عظیم بیٹسمینوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ برائن لارا کا ٹیسٹ اور ون ڈے کیرئر پاکستان کے خلاف میچوں سے شروع ہوا اور یہ بھی اتفاق ہے کہ ان کی الوداعی ٹیسٹ سیریز پاکستان کے خلاف تھی۔ یہ وہی سیریز ہے جس میں محمد یوسف بولرز سے کوئی رعایت کے لئے تیار نہیں تھے لیکن اس سیریز کے ملتان ٹیسٹ میں لارا کی انتہائی جارحانہ انداز میں کھیلی گئی شاندار ڈبل سنچری کو جس نے بھی دیکھا وہ اسے نہیں بھول سکتا۔ برائن لارا ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ 11953 رنز کے ریکارڈ کے مالک ہیں۔ انہیں یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے دو مرتبہ ٹیسٹ کرکٹ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز کے عالمی ریکارڈ کو اپنے نام کیا۔ سرگیری سوبرز کے365 رنز چھتیس سال تک عالمی ریکارڈ بنے رہنے کے بعد375 رنز کی اننگز کی صورت میں 1994 میں برائن لارا کے نام ہوئے۔ 2004 یہ ریکارڈ آسٹریلوی میتھیو ہیڈن نے380 رنز بناکر ان سے چھینا لیکن چھ ماہ بعد ہی لارا نے ایک اور شاندار اننگز کے ذریعے یہ ریکارڈ 400 رنز بنا کر دوبارہ اپنے نام کر لیا۔ برائن لارا کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی ایک اننگز میں پانچ سو رنز بنانے والے واحد بیٹسمین ہیں۔ انہوں نے یہ اعزاز انیس سو چورانوے میں واروِک شائر کاؤنٹی کے لیے کھیلتے ہوئے سابق پاکستانی کرکٹر محمد حنیف کا ریکارڈ توڑ کر حاصل کیا۔ اپنی سحرانگیز بیٹنگ سے دنیائے کرکٹ پر حکمرانی کرنے والے برائن لارا کے لئے قیادت ہمیشہ سے مسئلہ رہی ہے جو تین مرتبہ ان سے گئی اور واپس آئی ہے۔ 1998 میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں انہیں پہلی بار کپتان مقرر کیا گیا۔ چند تنازعات کی وجہ سے انہیں کپتانی چھوڑنا پڑی لیکن دو ہزار تین میں ایک بار پھر انہوں نے یہ ذمہ داری قبول کر لی۔ دو سال بعد ٹیم کی سپانسرشپ پر بورڈ کے ساتھ اختلافات کے سبب انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ گزشتہ سال تیسری دفعہ ملنے والی کپتانی ریٹائرمنٹ تک قائم رہی۔ لارا نے سینتیس سال کی عمر میں کرکٹ کو الوداع کہا ہے وہ ابھی مزید کھیل سکتے تھے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ سے ان کے تعلقات میں بدستور کھنچاؤ تھا۔ ناقدین برائن لارا پر یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ بحیثیت عام کرکٹر کھیلتے ہوئے وہ کارل ہوپر جمی ایڈمز اور کورٹنی والش سے عدم تعاون کی روش پر قائم رہے۔ لارا کے ریٹائرمنٹ کے فیصلے کو سابق ویسٹ انڈین فاسٹ بولر ویزلے ہال نے غیرمتوقع قرار دیا ہے البتہ جوئیل گارنر اور مائیکل ہولڈنگ کا کہنا ہے کہ انہیں اس فیصلے سے حیرت نہیں ہوئی ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ویسٹ انڈین کرکٹ کو آگے بڑھانے کے لئے فیصلے کئے جائیں۔ |
اسی بارے میں لارا کی ایک روزہ اننگز ختم11 April, 2007 | کھیل لارا نے بالروں کے چھکے چھڑا دیئے21 November, 2006 | کھیل ’لارامجھ سے بہتر کھلاڑی ہیں‘07 November, 2006 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||