انضمام ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ کوخیرباد کہنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کے مطابق جنوبی افریقہ کے خلاف آٹھ اکتوبر سے لاہور میں شروع ہونے والا دوسرا کرکٹ ٹیسٹ انضمام الحق کا الوداعی ٹیسٹ ہوگا۔ خبروں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ٹیسٹ کرکٹ میں انضمام الحق کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ایک کروڑ روپے دے گا تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے انضمام الحق کو ریٹائرمنٹ کے لیے ایک کروڑ روپے کی رقم دینے کی تردید کی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ انضمام الحق کے مستقبل کے بارے میں وہ آئندہ چند روز میں اعلان کرے گا۔ پاکستان کے ذرائع ابلاغ نے انضمام الحق کی لاہور ٹیسٹ میں شرکت اور پھر ریٹائرمنٹ کو ان کی پاکستان کرکٹ بورڈ سے ’ڈیل‘ اور غیرملکی ذرائع ابلاغ نے’گولڈن ہینڈ شیک‘ کا نام دیا ہے۔ واضح رہے کہ انضمام الحق نے بقول چیف سلیکٹر صلاح الدین صلو پہلے ٹیسٹ میں اپنی عدم دستیابی ظاہر کی تھی۔ گزشتہ روز جب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف سے اس بارے میں بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ دو تین روز میں صورتحال واضح ہوجائے گی۔ انضمام الحق ورلڈ کپ میں پاکستان کی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد ون ڈے انٹرنیشنل سے ریٹائر ہوگئے تھے ساتھ ہی انہوں نے کپتانی بھی چھوڑ دی تھی لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک کمیٹی قائم کرکے ورلڈ کپ کی شکست کی تمام تر ذمہ داری انضمام الحق پر عائد کردی تھی۔ اس کمیٹی نے جس کے سربراہ سابق ٹیسٹ کرکٹر اعجاز بٹ تھے، انضمام الحق کو خودسر اور آمر جیسے الفاظ سے بھی نوازا تھا۔ انضمام الحق کے پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ چئرمین سے تعلقات خوشگوار نہیں رہے۔ اوول ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کے واک آؤٹ، ٹیم میں پائے جانے والےغیر معمولی مذہبی رجحان اور فٹنس جیسے معاملات پر ڈاکٹر نسیم اشرف کی انضمام الحق پر تنقید والے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ اس صورتحال میں یہ بات سب ہی کو معلوم تھی کہ انضمام الحق کے لیے چاہتے ہوئے بھی اپنا ٹیسٹ کریئرجاری رکھنا ممکن نہ ہوگا۔ ان قیاس آرائیوں کو تقویت اس وقت ملی جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کو دیئے گئے نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں انضمام الحق کو شامل نہیں کیا۔ انضمام الحق کی جانب سے انڈین لیگ سائن کرنے کے بعد یہ بات یقینی ہوگئی تھی کہ ان کا بین الاقوامی کریئر ختم ہوچکا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ واضح کردیا تھا کہ انڈین لیگ سائن کرنے والے کرکٹر پر پاکستانی کرکٹ کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں لیکن بعد میں اس سخت موقف میں لچک آئی۔ چیف سلیکٹر صلاح الدین صلو نے کراچی ٹیسٹ کی ٹیم کے اعلان کے موقع پر کہا تھا کہ انضمام الحق سے ان کی پہلے ٹیسٹ میں دستیابی کے بارے میں بات ہوئی جس پر انہوں نے اپنی عدم دستیابی ظاہر کی ہے اور اگر وہ دوسرے ٹیسٹ میں دستیاب ہوئے تو ان کی سلیکشن پر ضرور غور کیا جائےگا۔ انضمام الحق نے اپنا ٹیسٹ کریئر دس ہزار رنز کی تکمیل کے ساتھ ختم کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی جو موجودہ حالات میں پوری ہوتی نظر نہیں آرہی تاہم وہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ رنز کے ریکارڈ کے ساتھ اپنا کریئر ختم کرتے نظر آرہے ہیں۔ |
اسی بارے میں آمر اور خود سر نہیں: انضمام 17 May, 2007 | کھیل ’ہار کی وجہ انضمام کا آمرانہ رویہ تھا‘17 May, 2007 | کھیل نمازیں شکست کی وجہ نہیں: انضمام07 April, 2007 | کھیل اختتام عمران خان جیسا ہو: انضمام04 March, 2007 | کھیل کپتانی آنی جانی چیز ہے: انضمام 09 October, 2006 | کھیل دل چاہتا ہے کھیلتا ہی رہوں: انضمام10 November, 2006 | کھیل کرکٹ چھوڑنے لگا تھا: انضمام25 November, 2005 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||