BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 May, 2007, 17:43 GMT 22:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آمر اور خود سر نہیں: انضمام

انضمام، آفریدی اور یوسف
’جس کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کرنا چاہتا تھا وہ دلائل دے کر ملتا تھا‘
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق نے ورلڈ کپ کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے ان ریمارکس کو مسترد کردیا ہے جس میں انہیں خود سر اور آمر قرار دیا گیا ہے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر اعجاز بٹ کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی شکست کا بنیادی سبب انضمام الحق کی قیادت اور ان کا آمرانہ رویہ تھا۔

انضمام الحق نے بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ کمیٹی میں شامل تینوں افراد ان کے بزرگ ہیں لیکن کسی کو بھی کپتانی کا تجربہ نہیں۔ ’ممکن ہے کہ ان افراد کو ان کی یہ بات کڑوی لگے کہ ان میں سے دو تو پاکستان کرکٹ بورڈ کے تنخواہ دار آفیشلز ہیں۔ ایک سابق ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز رہے ہیں، انہیں اسوقت خیال کیوں نہیں آیا جب وہ بقول ان کے کپتانی کے معاملے میں خود سری کر رہے تھے یا ان کا رویہ آمرانہ تھا۔کیا ان سے کسی کھلاڑی نے شکایت کی ہے؟‘

پہلے نرم ہونے کا الزام ہے
 ساری زندگی یہ الزام لگایا جاتا رہا کہ وہ فیلڈ میں بہت نرم طبیعت ہیں اور کھلاڑیوں کو کچھ نہیں کہتے تھے لیکن اب یہ نیا الزام ان کے سر لگا دیا گیا ہے جو کسی طور بھی انصاف پر مبنی بات نہیں
انضمام الحق

انضمام الحق نے کہا کہ ان پر تو ساری زندگی یہ الزام لگایا جاتا رہا کہ وہ فیلڈ میں بہت نرم طبیعت ہیں اور کھلاڑیوں کو کچھ نہیں کہتے تھے لیکن اب یہ نیا الزام ان کے سر لگا دیا گیا ہے جو کسی طور بھی انصاف پر مبنی بات نہیں۔

انضمام الحق نے کہا کہ ان کی کپتانی پر اعتراض کرنے والے یہ بھول گئے کہ ورلڈ کپ سے قبل ون ڈے میں وہ پاکستان کے سب سے کامیاب کپتان تھے۔
انضمام الحق نے اس الزام کو بھی مسترد کر دیا کہ انہوں نے سلیکٹرز کے سامنے ہٹ دھرمی دکھائی انہوں نے کہا کہ جس کھلاڑی کو وہ ٹیم میں شامل کرنا چاہتے تھے وہ انہیں دلائل دے کر ملتا تھا۔

سابق کپتان نے واضح کردیا کہ اپنے مستقبل کا فیصلہ وہ خود کریں گے کوئی انہیں کھیلنے یا نہ کھیلنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ سلیکٹرز کی مرضی ہوگی کہ وہ انہیں سلیکٹ کرتے ہیں یا نہیں لیکن یہ تحقیقاتی کمیٹی انہیں ڈکٹیٹ نہیں کرا سکتی۔

انضمام الحق نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ میں یہ عام سی بات ہے کہ شکست پر ہر کوئی اپنے آپ کو بچانا چاہتا ہے لیکن انہوں نے کسی پر ملبہ نہیں ڈالا اور شکست کی ذمہ داری یہ کہہ کر قبول کی کہ ٹیم اچھا نہیں کھیلی اور ہارگئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد