عبدالرشید شکور بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی |  |
 | | | جمعرات کو پی سی بی نے شعیب ملک کو کپتان بنانے کا اعلان کیا |
پاکستانی ٹیسٹ کرکٹرز نے شعیب ملک کو کپتان بنائے جانے کا خیرمقدم کیا ہے لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کی قیادت نوجوان آل راؤنڈر کے لئے زبردست چیلنج ہے اور ان کی کامیابی کا انحصار ان کی اپنی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں کے تعاون پر بھی ہوگا۔ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی شکست کے بعد قیادت چھوڑ دینے والے انضمام الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شعیب ملک سے زیادہ سینئر کرکٹرز ٹیم میں موجود ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ ان سینئر کرکٹرز کی طرف سے شعیب ملک کو مشکلات ہوسکتی ہیں۔ وہ تمام کھلاڑیوں سے بخوبی واقف ہیں۔ انہیں توقع ہے کہ تمام کرکٹرز ٹیم کو جیت کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے شعیب ملک کو مکمل سپورٹ کریں گے۔ انضمام الحق نے کہا کہ کپتان کے اعلان میں تاخیر سے مسئلہ پیدا ہوسکتا تھا لیکن کرکٹ بورڈ نے بر وقت اور درست فیصلہ کیا ہے۔ شعیب ملک میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ تمام کھلاڑیوں کو ساتھ لے کر چل سکتے ہیں البتہ ایڈجسٹ ہونے کے لئے انہیں کچھ وقت درکار ہوگا۔  | اپنی جگہ مستحکم بنائیں  موجودہ صورتحال میں شعیب ملک قیادت کے لئے موزوں ترین ہیں۔ انہوں نے کپتانی کر رکھی ہے، کاؤنٹی کرکٹ کھیلے ہوئے ہیں اور کرکٹ کا دماغ رکھتے ہیں۔ لہذا ان کی حمایت کرنی ہوگی لیکن ساتھ ہی شعیب ملک پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ٹیم میں بحیثیت بیٹسمین اپنی جگہ مستحکم بنائیں گے اور کپتانی کی ذمہ داری ملنے کے بعد اپنی کارکردگی بہتر بنائیں گے۔  سابق کپتان عمران خان |
سابق کپتان وقار یونس، شعیب ملک کو کپتان بنائے جانے کو موجودہ حالات میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا سب سے بہترین فیصلہ قرار دیتے ہیں۔ سڈنی سے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وقار یونس خان نے کہا کہ بورڈ کے پاس کوئی دوسری چوائس نہیں تھی۔ ٹیسٹ میں انہیں کپتانی دیا جانا قبل ازوقت ہوسکتا ہے لیکن ون ڈے کے لئے وہ موزوں ترین ہیں۔سینئر کرکٹرز کے تعاون کے بارے میں سوال پر وقار یونس نے کہا کہ ہر کرکٹر کو نئے کپتان کا ساتھ دینا چاہئے تاہم اس تمام صورتحال میں کوچ کا کردار بہت اہم ہوگا کہ وہ کس طرح شعیب ملک کی رہنمائی کرتا ہے۔ سابق کپتان عمران خان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں شعیب ملک قیادت کے لئے موزوں ترین ہیں۔ انہوں نے کپتانی کر رکھی ہے، کاؤنٹی کرکٹ کھیلے ہوئے ہیں اور کرکٹ کا دماغ رکھتے ہیں۔ لہذا ان کی حمایت کرنی ہوگی لیکن ساتھ ہی شعیب ملک پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ٹیم میں بحیثیت بیٹسمین اپنی جگہ مستحکم بنائیں گے اور کپتانی کی ذمہ داری ملنے کے بعد اپنی کارکردگی بہتر بنائیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ کرکٹ کی کپتانی دیگر کھیلوں کے مقابلے میں سب سے مشکل ہے۔ جس کرکٹر نے بھی کپتان بننا تھا اسے اپنے آپ کو منوانا پڑتا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کپتان بنتے ہی پہلے دن سے ہی سب کرکٹرز اس کی عزت کرنے لگ جائیں۔ کپتان کو اپنی کارکردگی دلیری اور کردار سے خود کو منوانا پڑتا ہے۔شعیب ملک اگر یہ صلاحیتیں دکھائیں گے تو ٹیم انہیں مانے گی۔ عمران خان نے کہا کہ اگر آپ اچھے سے اچھا کپتان لے آئیں لیکن اگر وہ اپنی کارکردگی نہیں دکھاتا تو ٹیم اس کے پیچھے نہیں چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ فرسٹ کلاس کے فرسودہ نظام کی وجہ سے یہاں کپتان اور کسی بھی پوزیشن پر آپ کو متبادل نہیں مل سکتے۔  |  شعیب ملک کو کپتانی دینے سے کئی سوالات سامنے آئے ہیں کہ کیا ان کی شخصیت اتنی مضبوط ہے کہ وہ اپنی کارکردگی سے مثال قائم کرسکیں ؟ اور یہ کہ کیا وہ کھلاڑی جنہوں نے خود کپتانی کی خواہش ظاہر کی تھی وہ انہیں قبول کریں گے؟  سابق کپتان انتخاب عالم |
سابق کپتان راشد لطیف نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ یہ تو کہتا ہے کہ سابق کرکٹرز اور میڈیا اس پر تنقید کرتے ہیں لیکن موقع تو وہ خود فراہم کرتا ہے۔ پی سی بی کا ضابطۂ اخلاق کہاں چلاگیا کہ متعدد کرکٹرز نے میڈیا میں آکر خود کپتانی کی خواہش ظاہر کردی جبکہ وہ بورڈ سے معاہدے کے تحت پالیسی معاملات پر بیان بازی نہیں کرسکتے۔راشد لطیف نوجوان شعیب ملک کے لئے نیک خواہشات رکھتے ہیں۔ تاہم وہ ان عوامل کو نظرانداز کرنے کے لئے تیار نہیں کہ یونس خان نے کپتانی سے انکار کس وجہ سے کیا؟ اور محمد یوسف کو سینئر ہونے کے باوجود کپتانی کیوں نہیں دی گئی؟ راشد لطیف نے کہا کہ شعیب ملک کو میدان میں اترنے سے پہلے بہت زیادہ ہوم ورک کرنا ہوگا۔ سابق کپتان انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ شعیب ملک کو کپتانی دینے سے کئی سوالات سامنے آئے ہیں کہ کیا ان کی شخصیت اتنی مضبوط ہے کہ وہ اپنی کارکردگی سے مثال قائم کرسکیں ؟ اور یہ کہ کیا وہ کھلاڑی جنہوں نے خود کپتانی کی خواہش ظاہر کی تھی وہ انہیں قبول کریں گے؟ انتخاب عالم نے کہا کہ موجودہ ٹیم میں کوئی بھی کرکٹر کپتانی کی خوبیاں نہیں رکھتا۔ ان کے خیال میں سلمان بٹ میں یہ خوبیاں ہیں لیکن وہ اس وقت ٹیم میں نہیں ہیں۔ انتخاب عالم نے کہا کہ سسٹم کی خرابی کی وجہ سے ہم کبھی بھی مستقبل کے لئے کپتان تیار نہیں کرسکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ایسا شخص بھی چاہئے کہ وہ شعیب ملک کی رہنمائی کرتے ہوئے ان کی غلطیوں کو درست کرسکے۔ |