کپتان کا اعلان جلد کرنا چاہیئے: شعیب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی ٹیم کے فاسٹ بالر شعیب اختر کا کہنا ہے کہ ٹیم کی کپتانی کے لیے بہت سے امیدواروں کا سامنے آنا ملک کی جگ ہنسائی کا سبب بن رہا ہے اور کرکٹ بورڈ کو ان باتوں سے بچنے کے لیے کپتان کا اعلان جلد کر دینا چاہیے۔ شعیب اختر عالمی کپ میں پاکستان کی آئر لینڈ کے ہاتھوں شکست کی وجوہات کا جائزہ لینے والی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان پر ہمیشہ کپتانی کے شوق کا الزام لگتا رہا ہے لیکن انہوں نے ابھی تک اس کی بابت کسی خواہش کا اظہار نہیں کیا اور نا کوئی بیان دیا جبکہ کئی دوسرے کھلاڑی اس خواہش کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ کپتان بننا چاہتے ہیں۔ ’پہلے ہر کھلاڑی کو ثابت کرنا چاہیے کہ وہ ٹیم کو جتوانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ٹیم میں اس کی جگہ بنتی ہے۔‘ دنیا کے تیز ترین گیند پھینکنے والے بالر شعیب اختر کا، جو کبھی فٹنس مسائل اور کبھی مثبت ڈوب ٹیسٹ جیسے تنازعات میں الجھے رہتے ہیں، کہنا ہے کہ کرکٹ بورڈ کو ایسا کپتان بنانا چاہیے جو ٹیم کو جتوا سکے۔ ’وہ بہادر ہو اور ٹیم کی صحیح معنوں میں رہنمائی کر سکے۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم میں بہت ٹیلنٹ ہے۔ ’اتنی صلاحیت ہے، جرات ہے، بس ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو ٹیم کو اکٹھا کرے۔ اگر ایسا ہو تو ہماری ٹیم ہوم سیریز میں جنوبی افریقہ کو 0-3 سے ہرا سکتی ہے۔‘
شعیب اختر نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم عالمی کپ کی شکست کو بھول کر ایک نئے جذبے کے ساتھ ٹیم کو بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم کے پاس فاسٹ بالنگ کے شعبے میں بہت خود کفیل ہے۔ ’ہمارے پاس بہت زبردست بالرز ہیں۔ انہیں صحیح طور پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ماضی کو بھول کر ابھی سے منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور ٹیم کا ٹرینگ شیڈول ایسا ہو کہ ٹیم سپر فٹ ہو اور جنوبی افریقہ کے دورۂ پاکستان سے پہلے مضبوط ٹیم بنا لی جائے۔ اپنی ذاتی فٹنس کی بابت راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے مشہور بولر کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے بہت سخت فزیکل ٹریننگ کر رہے ہیں اور وہ جلد مکمل فٹ ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ماتھے سے یہ داغ دھل جائے کہ وہ بار بار ان فٹ ہو جاتے ہیں۔ اب وہ ایسی فٹنس حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں ’جو دیر تک قائم رہے۔‘ کوچ کون ہو اس سوال پر شعیب اختر کا کہنا تھا: ’ٹیم میدان میں نہیں بلکہ ڈریسنگ روم میں باہمی اتحاد کی بدولت جیتتی ہے اور کوچ ایسا ہونا چاہیے جو کھلاڑیوں کو قریب لائے ان میں اتحاد پیدا کرے نا کہ ایسا ہو جو اپنی نوکری بچانے یا اپنی نوکری کی معیاد بڑھوانے میں ہی دلچسپی رکھتا ہو۔‘ شعیب اختر کے نزدیک مدثر نذر اور عاقب جاوید پاکستان کے لیے اچھے کوچ ثابت ہو سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں کرکٹ انکوائری: کمیٹی بنا تماشا دیکھ 04 April, 2007 | کھیل ’پاکستان، کرکٹ کو نشانہ نہ بنائیں‘24 March, 2007 | کھیل پاکستانی کرکٹ کے سات ہنگامہ خیز ماہ23 March, 2007 | کھیل کرکٹ بورڈ میں استعفوں کی لہر20 March, 2007 | کھیل علاج یا ڈوپ یاترا؟06 March, 2007 | کھیل شعیب اور آصف معافی مانگیں: راجہ02 March, 2007 | کھیل فٹنس یا ڈوپنگ، حقیقت کیا ہے؟01 March, 2007 | کھیل شعیب اور آصف ورلڈ کپ سے باہر01 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||