علاج یا ڈوپ یاترا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل کمیشن میں شامل ڈاکٹر وقار فاروقی کا کہنا ہے کہ شعیب اختر اور محمد آصف کی فٹنس سے متعلق کسی برطانوی معالج کی کوئی رپورٹ ان کی نظر سے نہیں گزری۔ ڈاکٹر وقار فاروقی کے بیان کے برعکس پاکستان کرکٹ بورڈ یہ دعوی کرتا رہا ہے کہ شعیب اختر اور محمد آصف ورلڈ کپ کے کیمپ کے دوران انگلینڈ اپنے گھٹنے اور کہنی کا علاج کرانے اور وہاں ڈاکٹرز سے مشورے کےلئے گئے تھے۔ جبکہ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی خبریں آتی رہی ہیں کہ یہ دونوں بولرز ڈوپ ٹیسٹ کے لئےلندن گئے تھے تاکہ یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ ان کے جسموں میں اب بھی نینڈرلون کی کتنی مقدار موجود ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل کمیشن نے شعیب اختر اور محمد آصف کی میڈیکل رپورٹ جاری کی ہے جس کی بنیاد پر آئی سی سی ان دونوں کی جگہ ورلڈ کپ اسکواڈ میں محمد سمیع اور یاسرعرفات کی شمولیت کی منظوری دے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کا میڈیکل کمیشن پی سی بی کے ڈاکٹر سہیل سلیم، شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹر ضیاء فاروقی اور لاہور کے شالیمار ہسپتال کے ڈاکٹر وقار فاروقی پر مشتمل تھا۔ ڈاکٹر وقارفاروقی آرتھوپیڈک سرجن ہیں۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں بولرز کا انہوں نے خود گزشتہ اتوار کو معائنہ کیا اور یہ تجویز کیا کہ انہیں مکمل فٹ ہونے کے لئے تین ہفتے آرام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پہلے بھی محمد آصف کا طبی معائنہ کیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ وہ اپنی کہنی کے سلسلے میں محتاط رہیں ورنہ یہ بگڑ سکتی ہے۔ ڈاکٹر وقار فاروقی سے گفتگو کے دوران یہ اہم بات سامنے آئی کہ ان کے سامنے لندن میں شعیب اختر اور محمد آصف کے قیام کے دوران ان کے کسی برطانوی معالج کی ایسی کوئی رپورٹ نہیں گزری جو ان کی فٹنس سے متعلق ہو۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی رپورٹ میں اگر برطانیہ میں محمد آصف کے کسی ڈاکٹر سے رابطے کا ذکر ہے تو وہ اس وقت کا ہے جب گزشتہ سال وہ پاکستانی ٹیم کے ساتھ انگلینڈ کے دورے پر تھے۔ حالیہ ورلڈ کپ کیمپ کے دوران ان کی انگلینڈ میں کسی معالج سے طبی مشاورت کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ یہ نکتہ اس لئے بھی اہم ہے کہ اگر شعیب اختر اور محمد آصف نے انگلینڈ میں اپنے گھٹنے اور کہنی کے بارے میں کسی معالج سے مشورہ لیا ہوتا تو ان دونوں بولرز کی لندن کی میڈیکل رپورٹس پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیکل کمیشن کے سامنے ضرور پیش ہوتیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ کا میڈیکل کمیشن اپنی حتمی رپورٹ مرتب کرتے وقت ان کے نکات کو شامل کرتا یا کم ازکم اس کا تذکرہ ہی ہوتا لیکن ڈاکٹر وقار فاروقی نے ایسی کسی غیرملکی میڈیکل رپورٹ سے انکار کیا ہے۔ شعیب اختر اور محمد آصف کی غیرملکی میڈیکل رپورٹس ڈاکٹر وقار فاروقی سے مخفی رکھنے کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر وقار فاروقی نے کہا کہ انہیں اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ شعیب اختر اور محمد آصف علاج کے لئے لندن گئے تھے یا کوئی اور مقصد تھا۔ وہ اپنے ہسپتال کے سلسلے میں بہت زیادہ مصروف رہتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے کہنے پر انہوں نے ان بولرز کا معائنہ کیا اور اپنی رپورٹ دے دی۔ | اسی بارے میں سمیع اور یاسر کے لیے درخواست05 March, 2007 | کھیل باضابطہ درخواست میں تاخیر05 March, 2007 | کھیل شعیب اور آصف ورلڈ کپ سے باہر01 March, 2007 | کھیل اٹھارہ کھلاڑیوں کے ٹیسٹ کلیئر23 February, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||