کپتانی کی دوڑ میں کون کون شامل ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی کپ میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان یونس خان کے کپتان بننے سے انکار کے بعد کھلاڑیوں میں ٹیم کی کپتانی حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ گزشتہ برس آئی سی سی چمپئنز ٹرافی میں یونس خان کے کپتانی سے اچانک انکار کے بعد ایک روز کے لیے بنائے گئے کپتان محمد یوسف کے مطابق اگر انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کپتانی کی پیشکش کرے گا تو وہ اسے قبول کر لیں گے کیونکہ وہ خود کو اس کا اہل سمجھتے ہیں۔ اس بات کا اظہار انہوں نے سب سے پہلے ’کرک انفو‘ نامی ویب سائٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا۔ ویب سائٹ نے لکھا کہ محمد یوسف کہتے ہیں کہ وہ اس عہدے کے لیے خود کو مضبوط امیدوار تصور کرتے ہیں وہ سینئر کھلاڑی ہیں اور انہیں ٹیم کی قیادت کا تجربہ بھی ہے۔ ویب سائٹ نے اس ضمن میں یوسف کے مزید خیالات بھی شائع کیے۔ محمد یوسف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف اتنی بات کہی ہے کہ اگر انہیں کپتانی کی پیشکش کی گئی تو وہ اسے قبول کر لیں گے اس کے علاوہ انہوں نے ویب سائٹ سے کوئی بات نہیں کی۔
جب محمد یوسف سے پوچھا گیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایڈہاک کمیٹی نے کپتان کے لیے جو معیار مقرر کیا ہے کیا وہ اس سے متفق ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ اس پر کوئی رائے نہیں رکھتے۔ یوسف تین ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی ٹیم کی کپتانی کر چکے ہیں جن میں سے جنوبی افریقہ کے خلاف ایک میچ پاکستان جیتا جبکہ آسٹریلیا کے خلاف دو ہزار چار-پانچ کی سیریز میں دو ٹیسٹ میں ان کی قیادت میں ٹیم ہاری تھی۔ آئی سی چمپئنز ٹرافی کے لیے جب محمد یوسف کو ایک دن کا کپتان بنایا گیا تھا تو ان کے نائب کی ذمہ داری آل راؤنڈر عبدالرزاق کو دی گئی تھی لیکن اب عبدالرزاق کپتانی کے امیدوار ہیں۔ عبدالرزاق عالمی کپ کے لیے روانگی سے چند دن پہلے گھٹنے پر بال لگنے کے سبب ان فٹ ہو گئے تھے اور عالمی کپ میں شرکت سے محروم رہ گئے تھے۔
عبدالرزاق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں کرکٹ بورڈ نے ٹیم کی کپتانی کی پیشکش کی تو وہ انکار نہیں کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ قومی کرکٹ ٹیم کی کپتانی ایک اعزاز کی بات ہے اور ’اگر مجھے یہ ذمہ داری سونپی گئی تو میں خود کو اس کا اہل ثابت کروں گا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ پہلی چیز ٹیم ہوتی ہے اور کپتان کو ٹیم کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔ دھواں دار بیٹنگ کرنے کے لیے مشہور شاہد آفریدی نے بھی ایک نجی ٹیلی ویژن پر انٹرویو میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان کی ٹیم کی قیادت کے لیے تیار ہیں اور وہ اس کے اہل ہیں۔ پاکستان کے چند سابق کرکٹرز کی رائے ہے کہ یونس خان کے انکار کے بعد کسی نوجوان کرکٹر کو قیادت سونپی جانی چاہیے تاکہ اگلے عالمی کپ تک اسے تیار کیا جا سکے۔اس سلسلے میں آل راؤنڈر شعیب ملک کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔
ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ بھی کپتان کے فیصلے پر گومگوں کا شکار ہے اور اس سلسلے میں صلاح مشورے جاری ہیں لیکن کسی حتمی فیصلے پر پہنچنا دشوار دکھائی دے رہا ہے۔ کرکٹ بورڈ نے کپتانی کے لیے اہل کھلاڑی کے لیے سو فیصد فٹ ہونے کے علاوہ دیگر شرائط بھی رکھی ہیں اب دیکھنا ہے کہ کرکٹ بورڈ کے وضع کیے گیے اس معیار پر کون سا کھلاڑی پورا اترتا ہے۔ اس کے علاوہ کرکٹ بورڈ کے لیے یہ بھی لمحہء فکریہ ہے کہ اگر ٹیم میں موجود اتنے کھلاڑی قیادت کے امیدوار ہیں تو ٹیم میں نظم وضبط کا کیا حال ہوگا؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||