یونس خان کا کپتانی سے انکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان یونس خان نے ٹیم کی قیادت نہ کرنے کے فیصلے کے بعد یہ بھی واضح کردیا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں ون ڈے کرکٹ کو خیرباد کہہ کر صرف ٹیسٹ کرکٹ پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔ نائب کپتان کا کہنا ہے کہ ’کپتانی میں آپ اکیلے رہ جاتے ہیں۔‘ یونس خان نے پاکستانی ذرائع ابلاغ کو ایک انٹرویو کہا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ سو فیصد کارکردگی دکھانے کی کوشش کی ہے لیکن ورلڈ کپ کے بعد ٹیم کا جس طرح ’استقبال‘ ہوا وہ اس سے سخت دلبرداشتہ ہوئے ہیں۔ اگر آپ کو پتہ چلے کہ گھروں پر دھمکی آمیز فون آرہے ہیں پتلے جلائے جارہے ہیں کرکٹرز کی تصاویر پر سیاہ رنگ لگاکر گدھوں پر لگایا جارہا ہے تو ایسے میں ٹیم کی قیادت کیسے کرسکتے ہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ انہیں کپتانی سے زیادہ اپنی اور فیملی کی عزت پیاری ہے۔ 29 سالہ یونس خان نے جو اپنے کریئر کے53 میں سے دو ٹیسٹ میچوں میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے گزشتہ سال بھارت کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں پاکستان کو جیت سے ہمکنار بھی کرچکے ہیں، کہا کہ یہ درست ہے کہ مشکل صورتحال میں کسی سینئر کرکٹر کو آگے بڑھ کر ذمہ داری قبول کرنی چاہیئے لیکن کپتانی میں آپ اکیلے رہ جاتے ہیں۔ یونس خان نے کہا کہ وہ کپتانی میں خوشی اور اطمینان محسوس نہیں کررہے تھے۔ انہیں جب چیمپیئنز ٹرافی میں کپتان بنایا گیا تو انہوں نے محسوس کیا کہ کھلاڑیوں سے فاصلے بڑھ گئے۔انہوں نے لڑکوں کو بلاکر اس بارے میں بات بھی کی۔ یونس خان نے اس سوال پر کہ کیا کچھ کھلاڑی آپ کے ساتھ خوش نہیں تھے؟ کہا کہ ایسی بات نہیں ہے۔ انہیں ان خبروں پر حیرت ہے جن میں یہ کہا گیا کہ انہوں نے کپتانی کے عوض چند کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کرنے کا مطالبہ کیا تھا: ’یہ بالکل غلط ہے۔
یونس خان نے جو151 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی اور چھ میں قیادت کرچکے ہیں، کہا کہ وہ کافی دنوں سے اس بارے میں سوچتے ہوئے ذہن بنا چکے ہیں کہ انہیں اب صرف ٹیسٹ کرکٹ پر ہی توجہ مرکوز رکھنی چاہیئے۔ پچھلے ڈیڑھ سال سے ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی کارکردگی بہت اچھی رہی ہے۔ چونکہ ابھی فوری طور پر پاکستانی ٹیم کو انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیلنی، لہذا وہ دو تین ماہ میں اس بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے۔ یونس خان اس سال انگلش کاؤنٹی یارکشائر کی نمائندگی بھی کررہے ہیں۔ ابتدا میں یارکشائر ان سے بحیثیت کپتان معاہدے میں دلچسپی رکھتی تھی لیکن اب وہ عام کرکٹر کی حیثیت سے کھیلیں گے۔ اس بارے میں یونس خان کا کہنا ہے کہ انگلِش کرکٹرز کا اپنا مزاج ہے جسے وہ زیادہ نہیں جانتے کیونکہ ناٹنگھم شائر سے وہ چند ہی میچز کھیلے تھے۔ لہذا وہ نہیں چاہتے کہ ان کے مزاج کو سمجھنے سے پہلے کپتان کے طور پر مسلط ہوجائیں پہلے وہ ان میں گھل مل کر دیکھیں گے اگر انہیں کپتانی کی ضرورت ہوگی تو پھر فیصلہ کریں گے۔ |
اسی بارے میں مایوسی میں فیصلہ نہیں کرتا: وولمر29 March, 2007 | کھیل میری محنت ضائع گئی: جسٹس قیوم30 March, 2007 | کھیل کرکٹ انکوائری: کمیٹی بنا تماشا دیکھ 04 April, 2007 | کھیل وولمر: جنوبی افریقہ میں دعائیہ سروس 04 April, 2007 | کھیل ’میچ فکسنگ کے الزامات بے بنیاد‘05 April, 2007 | کھیل سلیکشن کمیٹی کے لیے معیار کا تعین10 April, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||