’شکست قسمت کی خرابی نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی کی کھیلوں سے متعلق سٹینڈنگ کمیٹی نے ورلڈ کپ میں شکست کے بارے میں مستعفی کپتان انضمام الحق، سابق چیف سلیکٹر وسیم باری اور سلیم الطاف کی وضاحتوں کومسترد کردیا۔ سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین رائے عزیزاللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ کمیٹی نے انضمام الحق سے کہا کہ شکست کو قسمت کی خرابی اور گرین وکٹ کا نتیجہ قرار دینا غلط ہے اور جہاں تک میڈیا کی تنقید کا تعلق ہے تو یہ الزام بھی غلط ہے کیونکہ انہیں ہروقت میڈیا کی بھرپور حمایت حاصل رہی۔ سٹینڈنگ کمیٹی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کے اس بیان کا بھی سختی سے نوٹس لیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اثاثوں کا جائزہ لینے کا کوئی بھی مجاز نہیں۔ رائے عزیزاللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈاکٹر نسیم اشرف نے پیر کے روز کمیٹی کے سامنے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو حکومت سے کوئی مالی مدد یا فنڈز نہیں ملتے جس پر انہیں بتایا گیا کہ کرکٹ کو جو بھی سپانسرشپ ملتی ہے وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے نام پر ملتی ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن انچیف صدر مملکت ہیں لہذا وہ صدر سےگزارش کرتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اکاؤنٹس کا باقاعدہ آڈٹ اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان سے کرایا جائے۔
سٹینڈنگ کمیٹی نے ڈاکٹر نسیم اشرف کی جانب سے کرکٹ بورڈ کے انتظامی ڈھانچے میں ردوبدل کو عجلت پسندی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مستقبل کے بارے میں فیصلے تحمل سے کریں۔ رائے عزیزاللہ نے بتایا کہ ڈاکٹر نسیم اشرف پر یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ وہ کرکٹرز سے فاصلہ رکھتے ہوئے نظم و ضبط قائم رکھنے میں ناکام رہے ہیں جس کی واضح مثالیں ان کا سمندر کے کناروں پر کرکٹرز کے ساتھ کرکٹ کھیلنا ہے۔ انضمام الحق سے میچ فکسنگ کے بارے میں بھی پوچھا گیا جس پر انہوں نے تمام الزامات کو یکسر مسترد کردیا۔ |
اسی بارے میں نمازیں شکست کی وجہ نہیں: انضمام07 April, 2007 | کھیل ’میچ فکسنگ کے الزامات بے بنیاد‘05 April, 2007 | کھیل کرکٹ انکوائری: کمیٹی بنا تماشا دیکھ 04 April, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||