’ٹونٹی ٹونٹی میں کوئی فیورٹ نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جارحانہ بیٹنگ کے لیے شہرت رکھنے والے بیٹسمین شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹیم کافی اچھی ہے لیکن ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں وہ کسی ٹیم کو فیورٹ قرار نہیں دے سکتے۔ بدھ کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں جاری کیمپ میں تربیت کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ اب کرکٹ کا زیادہ انحصار کھلاڑیوں کی فٹنس پر ہوتا ہے اور اس کیمپ میں کھلاڑیوں نے کافی محنت کی ہے اور ان کی فزیکل فٹنس کافی بہتر ہوگئی ہے اگر اسی طرح ٹیم محنت کرتی رہی اور ٹیم نظر بد سے بچی رہی تو ورلڈ کپ میں نتائج بہت بہتر ہوں گے۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ کرکٹ بہت تیز ہو چکی ہے اور ٹونٹی اوورز تو کیا پچاس اوورز کے میچ پر بھی کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی لہذا وہ آسٹریلیا سمیت کسی ٹیم کو بھی فیورٹ نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میں بیٹسمین کا کردار زیادہ ہوتا ہے، بالرز بھی جیت اور ہار میں اتنا ہی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے جیف لاسن کی تقرری کو درست فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوچ کا کام یہ نہیں کہ وہ بالر کو بال کرنا سکھائے یا بیٹسمین کو بیٹ پکڑنا بتائے کیونکہ قومی سطح پر جب کوئی کھلاڑی پہنچتا ہے تو وہ اکیڈمی اور انڈر 19 کی سطح سے سیکھ کر آتا ہے۔ کوچ کا کام ٹیم کے لیے حکمت عملی تیار کرنا ہوتا ہے۔ نو بال پر بیٹسمین کو فری ہٹ ملنے کے آئی سی سی کے نئے قانون کو تیز ترین سنچری بنانے کا ریکارڈ رکھنے والے بیٹسمین شاہد آفریدی نے اچھا قانون قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے بالرز میں نظم و ضبط آ جائےگا اور نو بال کم کریں گے۔ جس سے وقت بھی ضائع نہیں ہو گا۔ اس قانون سے کرکٹ مزید دلچسپ ہو جائے گی اور ظاہر ہے کہ اس سے بیٹسمین کو فائدہ حاصل ہو گا۔
شاہد آفریدی نے عالمی کپ سنہ 2007 سے پہلے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا جو کہ بعد میں واپس لے لیا۔ اب اپنے مستقبل کی بابت شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹونٹی ٹونٹی ہر طرح کی کرکٹ جاری رکھیں گے۔ شاہد آفریدی جو پاکستان کی ٹیم کی کپتانی اور بعد ازاں نائب کپتانی کے خواہش مند رہ چکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹیم میں ہونا ان کے لیے اعزاز ہے اور کپتانی ملنا اس سے بڑا اعزاز ہوتا۔ انہوں نے کپتانی کی خواہش اس لیے ظاہر کی تھی کہ یونس خان انکار کر چکے تھے اور ٹیم کافی مشکل میں تھی اور اسی لیے انہوں نے کہا تھا کہ اگر بورڈ نے پیشکش کی تو وہ کپتانی کرنے کے لیے تیار ہیں اور اگر انہیں یہ ذمہ داری دی جاتی تو وہ احسن طریقے سے نبھاتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شعیب ملک کو کپتان بنا کر بورڈ نے اچھا فیصلہ کیا وہ ایک باصلاحیت کرکٹر ہیں لیکن ان کے ساتھ سلمان بٹ کو نائب کپتان بنایا یہ کرکٹ بورڈ کی اپنی مرضی ہے وہ اس کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں آفریدی پر چار ون ڈے کی پابندی10 February, 2007 | کھیل شاہد آفریدی ، تماشائیوں کا فیورٹ10 November, 2005 | کھیل شاہد آفریدی بھی ان فٹ 14 February, 2006 | کھیل شاہد آفریدی، رانا نوید ٹیم سے باہر06 November, 2006 | کھیل شاہد آفریدی کیمپ میں طلب22 February, 2004 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||