BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 December, 2006, 13:56 GMT 18:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنگال کے شیر کی ٹیم میں واپسی

گنگولی
سیلیکٹرز کا خیال ہے کہ تجربہ ٹیم کو مضبوط بنا سکتا ہے
تقریباً دس ماہ ٹیم سے باہر رہنے کے بعد سابق ہندوستانی کپتان سارو گنگولی دوبارہ ٹیم میں شامل کر لیے گئے ہیں تاکہ وہ بیٹنگ کے اس خلا کو پورا کر سکیں جو آؤٹ آف فارم بیٹسمینوں کی وجہ سے پیدا ہو گیا ہے۔

ان کا ٹیم میں واپس بلایا جانا ان کے بے پناہ تجربے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تاہم کئی ایک کا خیال ہے کہ اس کی وجہ جنوبی افریقہ کی باؤنسی اور تیز وکٹوں پر انڈین کرکٹ ٹیم کے بیٹسمینوں کی ناکامی ہے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر ووک رازدان کہتے ہیں کہ انہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ گنگولی کو ٹیم میں کیوں واپس بلایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی صاف وجہ جنوبی افریقہ میں انڈین بیٹنگ کی ناکامی ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’گنگولی اور وی وی ایس لکشمن کا واپس آنا یقیناً ٹیم کے لیے سود مند ہے۔ گنگولی دس ماہ ٹیم سے باہر رہے ہیں اور ہو سکتا ہے اس میں وہ اپنی کھوئی ہوئی فارم واپس لانے میں کامیاب ہو گئے ہوں‘۔

تاہم اگر گنگولی رنز بنانے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ یہ آخری مرتبہ ہو کہ وہ انڈیا کے لیے کھیلیں۔

تجربے کی واپسی
 جنوبی افریقہ میں ٹیسٹ کرکٹ کے چیلنج کو سامنے رکھتے ہوئے دلیپ وینگسارکر کی قیادت میں سیلیکٹرز نے تجربے کو نوجوان ٹیلنٹ پر فوقیت دینے کا درست فیصلہ کیا ہے
سابق ٹیسٹ کرکٹر رازدان

جنوبی افریقہ کے خلاف ان کی ٹیسٹ میچ میں بیٹنگ کی اوسط بتیس سے ذرا سی زیادہ ہے جبکہ ون ڈے میچوں میں یہ تینتالیس ہے۔ اس کے علاوہ وہ انڈیا کے سب سے کامیاب کپتان تصور کیے جاتے ہیں۔

رازدان کے مطابق گریگ چیپل کی ٹیم میں نوجوان خون لانے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جنوبی افریقہ میں ٹیسٹ کرکٹ کے چیلنج کو سامنے رکھتے ہوئے دلیپ وینگسارکر کی قیادت میں سیلیکٹرز نے تجربے کو نوجوان ٹیلنٹ پر فوقیت دینے کا درست فیصلہ کیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ جب چیپل نے ایسا کرنا شروع کیا تھا تو سیلیکٹرز کی انہیں مکمل حمایت حاصل تھی۔ ’لیکن جب ایسے پلان فیل ہو جائیں تو اندھا دھند ان کے پیچھے نہیں لگے رہنا چاہیئے‘۔

’ویسٹ انڈیز میں ہونے والے ورلڈ کپ میں بس اب چند ماہ رہ گئے ہیں اور ٹیم ابھی تک جیتنے کی طرف نہیں آئی‘۔

تاہم ایک اور سابق ٹیسٹ کرکٹر سنیل والسن کا کہنا ہے کہ ٹیم کی ناکامی کا سارا ملبہ کوچ پر نہیں ڈالنا چاہیئے۔ ’کرکٹرز کو بہتر کھیل کا مظاہرہ کرنا چاہیئے‘۔

سرنو گنگولیگنگولی کا زوال جاری
ٹیسٹ کے لیے ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا
گنگولی خطرے کی گھنٹی
کیا گنگولی کا کیرئر خطرے میں ہے؟
سورو گنگولیبدترین سال ختم
گنگولی فارم میں آنے کے لیے پر عزم ہیں
گانگولی ٹیم سےباہر
سورو گانگولی کے مداحوں کا احتجاج
گریگ چیپل اور گنگولی چیپل کاغلط اشارہ
فینز کی جانب اشارہ کرنے پر چیپل کوتنقید کا سامنا
گنگولیکپتانی کا غم نہیں
گنگولی صرف کھیل پر دھیان دینا چاہتے ہیں
اسی بارے میں
گنگولی ٹیم سے پھر باہر
03 September, 2006 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد