گنگولی کا کیرئر خطرے میں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی کرکٹ ٹیم میں فیصل آباد ٹیسٹ کے لیے سابق کپتان اور سینیئر کھلاڑی سورو گنگولی کو شامل نہیں کیا گیا اور ان کی بجائے نوجوان میڈیم فاسٹ بالر آر پی سنگھ کو کیریئر کا پہلا ٹیسٹ کھیلنے کا موقع دیا گیا ہے۔ بھارتی ٹیم کے کپتان راہول ڈراوڈ نے اپنے اس فیصلے پر کہا کہ گنگولی کو ٹیم میں نہ لینے کا فیصلہ ان کے لیے بہت مشکل تھا لیکن پچ دیکھ کر ہمیں یہ فیصلہ کرنا پڑا کیونکہ ہم یہاں جیتنے کے لیے آئے ہیں اور جیتنے کے لیے ہمیں اس میچ میں پانچ سپیشلسٹ بالرز کھلانے کی ضرورت تھی اسی لیے ہمیں یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔ بھارتی ٹیم کے اس فیصلے کی درستگی اورگنگولی کے کیریئر پر اس کے اثر کے بارے میں بھارتی ٹیم کے سابق ٹیسٹ کرکٹر ارون لال کا کہنا ہے کہ’اس میچ کی وکٹ دیکھتے ہوئے پانچ سپیشلسٹ بولر کھلانے کا بھارتی ٹیم مینجمنٹ کا فیصلہ درست ہے کیونکہ لاہور میں بھی انہوں نے ایک بالر کی کمی محسوس کی تھی اور اگر چھ بیٹسمینوں میں سے کسی کو باہر رکھنا تھا تو وہ گنگولی ہی بنتے تھے۔ ارون لال نے کہا کہ یہ فیصلہ کھیل کی حکمت عملی کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا گیا اور ایسا نہیں ہے کہ گنگولی کو اس میچ میں نہ لینے کے درپردہ کوئی تنازعہ یا چپقلش ہے۔ ارون لال کے بقول اس میچ کو نہ کھیلنے سے گنگولی کے کیرئر کو کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گنگولی ایک عظیم کھلاڑی ہیں، وہ ٹیم میں واپس آئیں گے۔ ارون لال نے کہا کہ ’وہ کتنا عرصہ مزید کرکٹ کھیلتے ہیں اس کا انحصار تو ان کی فارم پر ہے‘۔ پاک بھارت سیریز کی کوریج کے لیے کافی تعداد میں بھارت سے سپورٹس صحافی بھی آئے ہیں جن میں کچھ تو ایسے ہیں جن کا کرکٹ کی رپورٹنگ کا تجربہ دو دہائیوں سے بھی زیادہ ہے۔ کلکتہ کے دی ٹیلیگراف کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر لوکیندر پرتاپ ساہی کا کرکٹ رپورٹنگ کا چوبیس سال کا تجربہ ہے وہ گنگولی کو اس میچ میں نہ کھلانے سے کافی نالاں تھے۔
لوکیندر ساہی کا کہنا تھا کہ ’عام طور پر بھارتی ٹیم پانچ سپیشلسٹ بالرز کے ساتھ میدان میں نہیں اترتی بلکہ انہیں تو یاد نہیں کہ کب بھارت نے پانچ بالرز کے ساتھ کھیلا ہواور آج ان کا یہ فیصلہ میری سمجھ سے تو بالا تر ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس کے لیے گنگولی کو ایک آسان ٹارگٹ بنایا گیا‘۔ ساہی نے کہا کہ ’ لاہور میں تو اسے بیٹنگ کا موقع ہی نہیں دیا تو اس کی فارم کا اندازہ کیسے لگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنے سینیئر کھلاڑی کو اگر کھلانا نہیں تھا تو انہیں کیوں ٹیم کے ساتھ لایا گیا اور اس فیصلے کا گنگولی کے کیریر پر کافی برا اثر پڑ سکتا ہے‘۔ بمبئی کے ڈی این اے اخبار کے رپورٹر ایاز میمن نے بھارتی ٹیم مینجمنٹ کے فیصلے کو سراہا اور کہا کہ ’جس طرح کی وکٹیں مل رہی ہیں پانچ بالرز کی بہت ضرورت تھی اور چونکہ باقی بیٹسمین تو بہت اچھی فارم میں ہیں اس لیے گنگولی ہی کو باہر بٹھایا جا سکتا تھا‘۔ تاہم ایاز میمن نے کہا کہ اس فیصلے کا اثر گنگولی پر بہت برا پڑ سکتا ہے۔ خاتون صحافی نیرو بھاٹیہ نے کہا کہ ایسے موقع پر کہ جب گنگولی کو سکواڈ کا حصہ بھارتی بورڈ کے ایک آفیشل کے کہنے پر بنایا گیا، راہول ڈراوڈ کا فیصلہ ان کی نظر میں تو بہت دلیرانہ فیصلہ ہے۔ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یہاں جیتنے کا عزم لے کر آئے ہیں اور اس میں گنگولی کے لیے بھی پیغام ہے کہ ان کی جگہ ٹیم میں زیادہ بہتر بیٹسمین ہیں اور یہ ان کے کیرئر کے لیے کافی پریشان کن صورتحال ہے۔ کلکتہ کے دیپاشی دتہ نے کہا کہ اس فیصلے سے گنگولی کے کیرئر پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا اور گنگولی 2007 کے ورلڈ کپ تک اندر باہر رہتے ہوئے بھی ٹیم کا حصہ رہیں گے۔ | اسی بارے میں سورو گنگولی، اچھے کھلاڑی کا برا سال07 January, 2006 | کھیل پاکستان مستحکم پوزیشن میں21 January, 2006 | کھیل کارکردگی قابلِ اطمینان رہی: یونس21 January, 2006 | کھیل بدترین سال ختم ہوا: گنگولی02 January, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||