BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 January, 2006, 03:55 GMT 08:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سورو گنگولی، اچھے کھلاڑی کا برا سال

 گنگولی
گنگولی نے چھیاسی ٹیسٹ میچوں میں تقریبًا اکتالیس کی اوسط سے 5150 رنز بنائے ہیں
سورو گنگولی کا کہنا ہے کہ سنہ 2005 ان کےلیے منحوس ترین سال ثابت ہوا لیکن اس کے باوجود گنگولی کو ان کی فتوحات کی بناء پر بھارتی ٹیم کا کامیاب ترین کپتان قرار دینا بے جا نہ ہوگا۔

سورو گنگولی کی کپتانی میں بھارت کی کرکٹ ٹیم نے گیارہ سال کے طویل عرصے کے بعد اپنے ملک سے باہر کوئی سیریز جیتی اور یہ تھی سنہ 2004 میں پاکستان میں ہونے والی سیریز جس میں بھارتی ٹیم نے ٹیسٹ سیریز 1-2 سے اور ایک روزہ سیریز میں 2-3 سے فتح حاصل کی۔

پاکستان کے خلاف سیریز سے پہلے دنیا کی بہترین ٹیم عالمی چمپئن آسٹریلیا کے خلاف بھی سورو گنگولی نے نہ صرف قائدانہ صلاحیتوں کے جوہر دکھائے بلکہ اپنی ذاتی کاکردگی سے بھی اپنی ٹیم کو فائدہ پہنچایا۔

برسبن میں برابر رہنے والے ٹیسٹ میچ میں گنگولی کی سنچری نے آسٹریلوی ٹیم کو یہ پیغام دیا کہ یہ سیریز جیتنا ان کے لیے بہت مشکل ہے۔یہی ہوا اور بھارتی ٹیم نے یہ سیریز ایک ایک کی برابری پر ختم کی۔

بھارتی ریاست بنگال کے شہر کلکتہ میں پیدا ہونے والے اور بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے سورو گنگولی نے چھیاسی ٹیسٹ میچوں میں تقریبًا اکتالیس کی اوسط سے 5150 رنز بنائے ہیں جن میں بارہ سنچریاں اور پچیس نصف سنچریاں شامل ہیں۔

دو سو اناسی ون ڈے میچوں میں ان کا سکور 10123 ہے جس میں بائیس سنچریاں اور ساٹھ نصف سنچریاں بھی شامل ہیں۔ ون ڈے کرکٹ میں ان کا سب سے زیادہ سکور ایک سو تراسی رن ہے۔

گنگولی بنگال ہی کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے ہیں۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ڈبل سنچری سکور کرنے والے گنگولی کا فرسٹ کلاس کیر ئیر بھی کافی چمکدار ہے۔

سنہ دو ہزار پانچ میں بھارتی ٹیم کے آسٹریلوی کوچ گریک چیپل سے اختلافات اور اپنی بگڑتی ہوئی فارم کے سبب وہ کافی متنازعہ کھلاڑی رہے۔ انہوں نے نہ صرف کپتانی سے ہاتھ دھوئے بلکہ انہیں سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے ٹیم میں بھی شامل نہیں کیا گیا۔

تینتیس برس کے گنگولی کے لیے یہ بہت مشکل دور ہے۔ پاکستان کے خلاف بھارتی ٹیم کا رکن بننے سے انہیں یقیناً امید کی کرن نظر آئی ہے اور اب وہ پرعزم ہیں کہ سنہ 1996 کی طرح جب انہوں نے انگلینڈ کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں سنچریاں بنا کر ٹیم میں اپنی جگہ مستحکم کی تھی، وہ پاکستان کے خلاف بھی ایسی ہی کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ایک بار پھر اپنی حیثیت منوانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد