BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 May, 2008, 07:03 GMT 12:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مریخ سے پہلی اہم تاریخی تصاویر
مریخ کی سطح
خلائی طیارے کی مریخ کی بھیجی جانے والی اس تصویر میں ایک ہموارسطح پر کچھ پتھر دکھائی دے رہے ہیں
امریکہ کے خلائی ادارے ناسا کے تحقیقی خلائی طیارے نے مریخ کی سطح پر اترنے کے بعد تاریخی تصاویر بھیجی ہیں۔

مریخ پر جانے والا یہ خلائی طیارہ ’مارز فینکس لینڈر‘ زمین سے سرخ سیارے تک کا اڑسٹھ کروڑ کلومیٹر کا سفر طے کر کے اتوار کو رات گئے مریخ کے شمالی حصے میں اترا تھا۔

ناسا کو زمین پر بھیجی جانے والی ان تصاویر سےتحقیقی طیارے کی لینڈنگ کی مزید تفصیل معلوم ہوئی ہے۔ پہلی تصویرمیں فینکس کے بحافظت مریخ پر اترنے کے بعد مریخ کے ’آرکٹیک میدان‘ کی شبیہہ ہے جس کو اس سے قبل کبھی اتنے قریب سے نہیں دیکھا گیا۔


جبکہ دوسری تصاویر میں روبوٹ کےمریخ کی سطح پر پہنچنے کے بعد اپنی ٹانگوں پر کھڑے ہونے اور سورج سے توانائی حاصل کرنےوالے پینل کھولے جانے کی تفصیلات دکھائی گئی ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس مِشن سے یہ واضح طور پر پتا چل سکے گا کہ آیا کبھی مریخ پر زندگی کے کوئی آثار موجود رہے ہیں یا نہیں۔

مریخ پر اترنے والا یہ خلائی روبوٹ ایسے مشینی ہاتھ سے لیس ہے جو مریخ کی سطح کے اندر پانی یا برف کی موجودگی کا پتا چلائے گا۔

فینکس نےسورج سے توانائی حاصل کرنےوالے پینل کھولے لیے ہیں

فینکس لینڈر مریخ کی سطح پر پچیس مئی کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق گیارہ بج کر تریپن منٹ پر اترا۔

اس خلائی سیارے کے دس ماہ طویل سفر کے آخری سات منٹ مشکل ترین لمحے تھے۔

اکیس ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مریخ کی فضا کے کنارے پر پہنچنے کے بعد اس خلائی سیارے نے حفاظت سے اترنے کے لیے کئی ایک پینترے بدلنا تھے۔

آخری مرحلے پر اس خلائی سیارے کا پیرا شوٹ کھلنا تھا تاکہ اس کی رفتار کم ہو سکے اور یہ بالکل محفوط حالت میں مریخ کی سطح کو چھو سکے۔

ناسا کی ’جیٹ پروپلشن‘ لیباٹری میں انجنیئروں اور مینیجروں نے طیارے کے مریخ کی سطح پر بحفاظت اترنے کی خوشی میں تالیاں بجائیں۔

اس طیارے کے فلائٹ کنٹرولر نے اعلان کیا کہ ’فینکس اتر گیا ہے۔۔ مریخ کے شمالی علاقے میں خوش آمدید۔‘

برطانیہ کی طرف سے امپیریل کالج لندن کے ڈاکٹر ٹام پک اس ٹیم میں شامل ہیں۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مشن کا مقصد مریخ کی سطح کے نیچے اس حصہ تک پہنچا جائےجہاں یقینی طور پانی کی موجودگی کا پتا چل سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل مریخ کے گرد گھومنے والے خلائی سیاروں کی مدد سے اس جگہ کے بارے میں معلومات حاصل کر لی گئی تھیں اور انہیں یہ معلوم ہے کہ سطح کے نیچے دس سنٹی میٹر یا اس سے کم گہرائی پر برف اور پانی موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی کی موجودگی انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ زندگی کا دارومدار اس پر ہے۔

مریخ پر خلائی طیارے کا اترنا انتہائی مشکل کام ہے۔ انیس سو اکہتر سے اب تک اس طرح کے گیارہ تجربات ہو چکے ہیں لیکن صرف پانچ میں کامیابی ہو سکی۔

بادلپراسرار بادل
ناسا آسمان کے پراسرار بادلوں کا راز جانے گا
شٹل کی جگہ اورین
ناسا نے نئے خلائی طیارے بنانے کا ٹھیکہ دیا ہے
دو سورجسورج ایک ہی کیوں
دو سورج والے نظام شمسی محض تخیل نہیں
خلائی شٹلایٹلانٹس روانہ
بین الاقوامی خلائی مرکز کی تعمیر جاری
اسی بارے میں
مریخ کی آدھی سطح پر برف؟
03 May, 2007 | نیٹ سائنس
خلائی سفر رضاکاروں کی تلاش
21 June, 2007 | نیٹ سائنس
مریخ پر ناسا کا نیا خلائی مشن
04 August, 2007 | نیٹ سائنس
انسان کبھی مریخ پر جا سکے گا؟
07 October, 2007 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد