خلائی سفر کے لیئے نئے اورین طیارے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے خلائی ادارے ناسا نے طیارہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کی سربراہی میں قائم مختلف کمپنیوں کے ایک گروپ کو نئے خلائی طیارے بنانے کے لیئے کئی ارب ڈالر کا ٹھیکہ دیا ہے۔ نیا خلائی طیارہ جسے اورین کا نام دیا گیا ہے خلاء بازوں کو چاند اور اس سے آگے خلاء میں لے جانے کے لیئے استعمال کیا جائے گا۔ نئے خلائی طیارے خلائی شٹل کی جگہ لیں گے جو سن دو ہزار دس میں اپنی عمر پوری کر لیں گے۔ اورین طیاروں کی شکل پرانے اپالو طیاروں جیسی ہو گی جو انیس سو ساٹھ اور انیس سو ستر کی دہائی میں خلاء میں جانے کے لیئے استعمال کیئے جاتے تھے۔ خلائی جہاز شٹیل کے برعکس ان نئے خلائی طیاروں کے پر نہیں ہوں گے اور خلا سے واپسی پر یہ طیارے زمین پر اترنے کے لیئے پیرا شوٹ استعمال کریں گے۔ |
اسی بارے میں پلوٹو کا درجہ گھٹانے پر تنازع25 August, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||